بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شعبان 1441ھ- 03 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

میت کے گھر چولہا جلانا


سوال

زید کے والد کا انتقال پنڈی میں ہوا ہے، اور زید  کی ایک بہن کراچی میں رہائش پذیر ہے، اب آیا کہ کیا تین دن گھر میں چولہا جلایا جائے یا نہیں؟  اگر نہیں تو صرف اسی جگہ نہیں جلایا جائے جہاں میت موجود ہے یا کراچی میں جہاں بیٹی ہے وہاں بھی نہ جلایا جائے؟

جواب

یہ بات مشہور ہے کہ میت کے گھر تین دن تک چولہا نہیں جلانا چاہیے، اس بات کی کوئی اصل نہیں،  ضرورت پڑنے پر چولہا جلایا جا سکتا ہے۔

آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:

’’جس گھر میں میّت ہوجائے وہاں چولہا جلانے کی کوئی ممانعت نہیں، چوں کہ میت  کے گھر والے صدمے کی وجہ سے کھانا پکانے کا اہتمام نہیں کریں گے؛ اس لیے عزیز و اقارب اور ہم سایوں کو حکم ہے کہ ان کے گھر کھانا پہنچائیں اور ان کو کھلانے کی کوشش کریں۔اپنے چچازاد حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی شہادت کے موقع پر آنحضرتﷺ نے اپنے لوگوں کو یہ حکم فرمایا تھا، اور یہ حکم بطور استحباب کے ہے، اگر میّت کے گھر والے کھانا پکانے کا انتظام کرلیں تو کوئی گناہ نہیں، نہ کوئی عار یا عیب کی بات ہے‘‘۔ (ج۴ ص۳۲۰، مکتبہ لدھیانوی) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105201031

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے