بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1441ھ- 04 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

میت کے دفنانے وغیرہ کی فضیلت


سوال

میت کی قبر کھودنے یا قبر پر دیگر کام کرنے کا کوئی ثواب کسی حدیث سے ثابت ہے،مثلاً کوئی میت کی قبر کھودتا ہے تو اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جاتا ہے؟

اور ہمارے ہاں ایک اور بات مشہور ہے کہ  پیشاب کے چھینٹوں سے جو عذاب ہوتا ہے وہ زائل ہو جاتا ہے۔

جواب

امام حاکم رحمہ اللہ نے ’’مستدرک حاکم‘‘ میں ایک روایت نقل کی ہے:

"أخبرنا بكر بن محمد الصيرفي بمرو ثنا عبد الصمد بن الفضل ثنا عبد الله بن يزيد المقري ثنا سعيد بن أبي أيوب عن شرحبيل بن شريك المعافري عن علي بن رباح اللخمي عن أبي رافع قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: من غسل ميتًا فكتم عليه غفر له أربعين مرةً، و من كفن ميتًا كساه الله من السندس و استبرق الجنة، و من حفر لميت قبرًا فأجنه فيه أجرى له من الأجر كأجر مسكن أسكنه إلى يوم القيامة. هذا حديث صحيح على شرط مسلم و لم يخرجاه". (المستدرك علی الصحیحین للحاکم، کتاب الجنائز: ۱/۵۰۵، رقم الحدیث:۱۳۰۷، ط: دارالکتب العلمیہ بیروت)

یعنی جس آدمی نے میت کو غسل دیا اور اس کے عیوب کی پردہ پوشی کی اس کی چالیس بار مغفرت کی جائے گی، جس نے میت کو کفن پہنایا اللہ تعالی اسے جنت کے سندس و استبرق  کا لباس پہنائیں گے، اور جس نے میت کے لیے قبر کھودی اس کے لیے قیامت تک ایسا ثواب لکھا جائے گا جیسے اس نے گھر بنا کر اس میں ٹھہرایا ہو ۔

امام حاکم فرماتے ہیں کہ ’’یہ حدیث صحیح‘‘ ہے اور امام مسلم کی شرط کے مطابق ہے، اور علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے اس پر کوئی کلام بھی نقل نہیں کیا ہے؛  لہذا یہ حدیث بیان کرسکتے ہیں، البتہ کسی روایت میں یہ نہیں ملا کہ اس سے چھینٹوں کی وجہ سے ملنے والا عذاب ٹل جاتا ہے ۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200585

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں