بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 جمادى الاخرى 1441ھ- 21 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

مہر کی ادائیگی سے قبل ھم بستری کا حکم


سوال

شرعی حقِ مہر کی رقم کتنی ہے؟اگر حقِ مہر کی کچھ رقم ادا کر دی جاۓہم بستری سے پہلے اور باقی رقم بعد میں ادا کرنی ہو تو ایسے کی جانے والی ہم بستری کیا جائز ہے؟

جواب

مہر  کی کم سے کم مقدار دس درہم  (30  گرام618ملی گرام)چاندی یا اس کی قیمت ہے، اس سے کم مہر مقرر نہیں کیا جاسکتا۔ باقی عورت کا اصل حق "مہرِمثل" ہے، "مہرِ مثل"  کا مطلب یہ ہے کہ جتنا لڑکی کے باپ کے خاندان میں اس جیسی لڑکیوں کا مہر ہوتاہے، ا تنا ہی مہر اس لڑکی کا بھی ہونا چاہیے، مگر "مہرِ مثل" سے کم یا زیادہ بھی رکھ سکتے ہیں۔ مالی گنجائش ہونے کی صورت میں بہتر یہ ہے کہ "مہرِ فاطمی" کی مقدار مہر مقرر کیا جائے، جو ایک سو، سوا اکتیس (131/25)تولہ  چاندی ہے۔چاندی  کی قیمت گھٹتی بڑھتی رہتی ہے۔

مہر عورت کا حق ہے،اور شریعت نے اس کی جلدادائیگی کی تاکید ہے، لہذااگر کل مہر معجل ہو تو عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ  وہ مہر کی ادائیگی سے قبل شوہر کو حقوق کی ادائیگی سے روک سکتی ہے، اور شوہر کو جبر کا حق نہیں، لیکن اگر عورت مہر معجل ہونے کے باوجود فوری ادائیگی کا مطالبہ نہیں کرتی، بلکہ رضامندی سے حقوقِ زوجیت ادا کرنے دیتی ہے یا عورت کا مہر عند الطلب ہے  تو اس صورت میں کوئی حرج نہیں ہے ، شرعاً  گناہ نہیں ہوگا۔

المبسوط للسرخسی میں ہے :

" والدليل عليه أنها تحبس نفسها؛ لاستيفاء المهر، ولاتحبس المبدل إلا ببدل واجب وإن بعد الدخول بها يجب. ولا وجه لإنكاره؛ لأنه منصوص عليه في القرآن". (6/190)

بدائع الصنائع میں ہے :

"وكذا لها أن تحبس نفسها حتى  يفرض لها المهر ويسلم إليها بعد الفرض، وذلك كله دليل الوجوب بنفس العقد". (5/468)

تبیین الحقائق میں ہے :

"قال رحمه الله: (ولها منعه من الوطء والإخراج للمهر ، وإن وطئها ) أي لها أن تمنع نفسها إذا أراد الزوج أن يسافر بها أو يطأها حتى تأخذ مهرها منه، ولو سلمت نفسها ووطئها برضاها لتعين حقها في البدل، كما تعين حق الزوج في المبدل وصار كالبيع".

وفیہ ایضاً:

"وأما إذا ، نصا على تعجيل جميع المهر أو تأجيله فهو على ما شرطا حتى كان لها أن تحبس نفسها إلى أن تستوفي كله فيما إذا شرط تعجيل كله ، وليس لها أن تحبس نفسها فيما إذا كان كله مؤجلاً؛ لأن التصريح أقوى من الدلالة فكان أولى". (5/490)

الاختیار لتعلیل المختار میں ہے :

"قال : ( وللمرأة أن تمنع نفسها وأن يسافر بها حتى يعطيها مهرها )؛ لأن حقه قد تعين في  المبدل فوجب أن يتعين حقها في البدل تسويةً بينهما، وإن كان المهر كله مؤجلاً ليس لهاذلك؛ لأنها رضيت بتأخير حقها". (3/122)(فتاوی محمودیہ 12/81) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200059

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے