بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مہر فاطمی کے بارے میں سوال

سوال

کیا اس دور میں ایک درہم چاندی کے 2.975 گرام وزن کے سکے کے برابر ہی تھا؟ اگر ایسا ہی ہے تو 500 درہم کی مقدار 131.25 تولہ کیسے بنتی ہے؟ کیا اس انداز سے کیے گئے شمار پر مہر فاطمی کی تعین میں فرق سے صرف نظر کیا جائے یا نہیں؟

جواب

جواب سے پہلے دو مقدموں کا جاننا ضروری ہے:

1۔ ایک درہم کا وزن تین ماشہ، ایک رتی اور ایک پانچواں حصہ رتی کا ہے، اس لحاظ سے ایک درہم میں 25.20 رتیاں ہوئیں، یوں 500 درہم میں 12600 رتیاں ہوئیں۔

2۔ ایک تولہ میں بارہ ماشے ہوتے ہیں، ایک ماشہ میں آٹھ رتی ہوتی ہیں، اس لحاظ سے ایک تولہ میں 96 رتیاں ہوئیں۔

            مہر فاطمی کی مقدار 550 درہم میں 12600 رتیاں ہیں اگر ہم اس کو تولہ میں تبدیل کرنا چاہیں  تو 96 سے تقسیم کریں گے ، جس کا حاصل جواب 131.25 تولہ آئے گا۔

            ایک درہم2.975 گرام کا نہیں، بلکہ  3.0618 گرام کا ہوتا ہے ، لہذا 500 درہم میں 1530.9 گرام ہوئے، چوں کہ ایک تولہ 11.664 گرام کا ہوتا ہے تو 1530.9 کو جب 11.664 سے تقسیم کریں گے تو حاصل جواب تولہ 131.25 آئے گا۔(مستفاد از جواہر الفقہ، اوزان شرعیہ ) فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200098
تاریخ03-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں