بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مہر ادا کیے بغیر بیوی سے قربت کا حکم


سوال

اگر مہرِ  معجل ادا کیے بغیر کوئی بیوی سے ہم بستری کر لے تو اس کو کیا زنا میں شمار کیا جائے گا اورکیا اس کا گناہ ہو گا؟

جواب

مہر عورت کا حق ہے،اور شریعت نے اس کی جلدادائیگی کی تاکید ہے، لہذااگر کل مہر معجل ہو تو عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ  وہ مہر کی ادائیگی سے قبل شوہر کو حقوق کی ادائیگی سے روک سکتی ہے، اور شوہر کو جبر کا حق نہیں، لیکن اگر عورت مہر معجل ہونے کے باوجود فوری ادائیگی کا مطالبہ نہیں کرتی بلکہ رضامندی سے حقوقِ زوجیت ادا کرنے دیتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور بالفرض اگر اس صورت میں شوہر جبراً  تعلق قائم کرتاہے تو بھی اسے زنا نہیں کہاجائے گا۔البتہ وہ شخص جس نے کسی عورت سے نکاح کیا، اور مہرمقرر ہوا،  لیکن اس شخص کی نیت مہر ادا کرنے کی نہیں ہے ، تو ایسا شخص عورت کے ساتھ بغیر مہر کے ہم بستری کرکے زانی شمار کیاجائے گا۔ چنانچہ مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے :
"قال النبي صلى الله عليه وسلم: من نكح امرأةً وهو يريد أن يذهب بمهرها فهو عند الله زان يوم القيامة". (4/360)
ترجمہ:جو شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور مہر ادا کرنے کی نیت نہ رکھتاہو وہ عنداللہ زانی ہے۔

المبسوط للسرخسی میں ہے :

" والدليل عليه أنها تحبس نفسها؛ لاستيفاء المهر، ولاتحبس المبدل إلا ببدل واجب وإن بعد الدخول بها يجب. ولا وجه لإنكاره؛ لأنه منصوص عليه في القرآن". (6/190)

بدائع الصنائع میں ہے :

"وكذا لها أن تحبس نفسها حتى  يفرض لها المهر ويسلم إليها بعد الفرض، وذلك كله دليل الوجوب بنفس العقد". (5/468)

تبیین الحقائق میں ہے :

"قال رحمه الله: (ولها منعه من الوطء والإخراج للمهر ، وإن وطئها ) أي لها أن تمنع نفسها إذا أراد الزوج أن يسافر بها أو يطأها حتى تأخذ مهرها منه، ولو سلمت نفسها ووطئها برضاها لتعين حقها في البدل، كما تعين حق الزوج في المبدل وصار كالبيع".

وفیہ ایضاً:

"وأما إذا ، نصا على تعجيل جميع المهر أو تأجيله فهو على ما شرطا حتى كان لها أن تحبس نفسها إلى أن تستوفي كله فيما إذا شرط تعجيل كله ، وليس لها أن تحبس نفسها فيما إذا كان كله مؤجلاً؛ لأن التصريح أقوى من الدلالة فكان أولى". (5/490)

الاختیار لتعلیل المختار میں ہے :

"قال : ( وللمرأة أن تمنع نفسها وأن يسافر بها حتى يعطيها مهرها )؛ لأن حقه قد تعين في  المبدل فوجب أن يتعين حقها في البدل تسويةً بينهما، وإن كان المهر كله مؤجلاً ليس لهاذلك؛ لأنها رضيت بتأخير حقها". (3/122)(فتاوی محمودیہ 12/81)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200467

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے