بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1441ھ- 10 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

مکہ مکرمہ میں پندرہ یوم سے کم قیام کرنے والا مسافر ہے


سوال

اگر میں مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ چار یا پانچ دنوں کے لیے چلاجاؤ ں تو میں وہاں سفر کی نماز پڑھ لوں یا عام نماز؟ کیوں کہ میں جس سے بھی پوچھوں نیا جواب مل جاتا ہے!

جواب

مکہ مکرمہ چوں کہ مدینہ منورہ سے مسافتِ سفر پر واقع ہے، لہذا آپ اگر مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ پندرہ دن سے کم کے لیے جائیں گے توآپ مسافر کہلائیں گے اور تنہا نماز پڑھنے یا امامت کرانے کی صورت میں مکہ مکرمہ میں سفر کی نماز ادا کریں گے۔پوری نماز پڑھنادرست نہیں ہوگا۔البتہ اگر امام کی اقتدا میں فرض نماز اداکررہے ہوں تو چاروں رکعتیں ادا کریں گے۔بخاری شریف میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے  روایت میں ہے:

"خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلیٰ الله عليه وآله وسلم مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَی مَکَّةَ فَکَانَ يُصَلِّي رَکْعَتَيْنِ رَکْعَتَيْنِ حَتَّی رَجَعْنَا إِلَی الْمَدِینَةِ، قُلْتُ: أَقَمْتُمْ بِمَکَّةَ شَيْئًا؟ قَالَ: أَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا".

ترجمہ : ’’ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ   وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کی طرف نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ  وسلم دو دو رکعتیں پڑھتے، یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ میں لوٹ آئے۔ (راوی کہتے ہیں )میں نے کہا: آپ مکہ مکرمہ میں کچھ ٹھہرے؟ فرمایا: ہاں اس میں دس روز ٹھہرے۔‘‘فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200595

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں