بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ربیع الاول 1442ھ- 23 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

مکروہ وقت میں نماز ادا کرنا / قضا نماز باجماعت ادا کرنا


سوال

اگر کسی شخص کی تکبیر اولی کی 40 روزہ ترتیب چل رہی ہو اور کسی روز اس سے نمازِ فجر قضا ہوجائے تو اب اگر اس کو مکروہ وقت کے بعد باجماعت ادا کرنا چاہے تو ترتیب برقرار رہے گی یا نہیں؟

نیز قضا کے بعد جماعت سے قضا شدہ نماز کی ادائیگی کا کیا حکم ہے؟

اور یہ بھی بتا دیں کہ اگر کسی نے مکروہ وقت میں فجر کی نماز پڑھی تو اس کا کیا حکم ہے؟ مثلاً 6بج کر 38 منٹ پر وقت ختم ہوا اور نماز 42 منٹ پر مکمل ہوئی جو کہ 38 منٹ پر ہی شروع ہوئی تھی.

جواب

1۔۔ مکروہ وقت کے بعد ادا کئی نماز  ”ادا“ نہیں کہلاتی،  بلکہ وہ نماز ”قضا“ شمار ہوتی ہے، اس سے تکبیرِ اولیٰ کی ترتیب برقرار نہیں رہے گی۔

2۔اگر ایک سے زائد افراد کی ایک ہی وقت کی نماز قضا ہوجائے اور وہ ایک جگہ پر قضا نماز پڑھ رہے ہوں تو ان کے لیےقضا نماز  باجماعت پڑھنا جائز ہے، بلکہ ایسے موقع پر جماعت سے نماز ادا کرنا بہتر ہے، البتہ عام حالات میں غفلت اور سستی کی وجہ سے نماز کا قضا ہوجاتا ہے بہت بڑا گناہ ہے، اور لوگوں کے سامنے کھلم کھلم قضا کرنا گویا گناہ کا اظہار ہے، جو کہ جائز نہیں ہے،لہذا  لوگوں سے چھپ کر قضا نماز ادا کرنی چاہیے۔

3۔مکروہ وقت میں نماز ادا کرنا مکروہِ تحریمی اور  گناہ ہے،اس پر توبہ واستغفار کرنا ضروری ہے، اگر فجر کی نماز مکروہ وقت سے پہلے شروع کی اور مکروہ وقت داخل ہوگیا یا مکروہ وقت کے اندر شروع کی تو دونوں صورتوں میں وہ نماز ادا نہیں ہوگی، اس کا اعادہ کرنا ضروری ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 370، 374):
"(وكره) تحريماً، وكل ما لايجوز مكروه (صلاة) مطلقاً (ولو) قضاءً أو واجبةً أو نفلاً أو (على جنازة وسجدة تلاوة وسهو) لا شكر قنية (مع شروق) ... (وسجدة تلاوة، وصلاة جنازة تليت) الآية (في كامل وحضرت) الجنازة (قبل) لوجوبه كاملا فلا يتأدى ناقصا، فلو وجبتا فيها لم يكره فعلهما: أي تحريما. وفي التحفة: الأفضل أن لاتؤخر الجنازة".

الفتاوى الهندية (1/ 52):
"ثلاث ساعات لاتجوز فيها المكتوبة ولا صلاة الجنازة ولا سجدة التلاوة إذا طلعت الشمس حتى ترتفع وعند الانتصاف إلى أن تزول وعند احمرارها إلى أن يغيب إلا عصر يومه ذلك فإنه يجوز أداؤه عند الغروب. هكذا في فتاوى قاضي خان قال الشيخ الإمام أبو بكر محمد بن الفضل ما دام الإنسان يقدر على النظر إلى قرص الشمس فهي في الطلوع. كذا في الخلاصة. هذا إذا وجبت صلاة الجنازة وسجدة التلاوة في وقت مباح وأخرتا إلى هذا الوقت فإنه لا يجوز قطعا أما لو وجبتا في هذا الوقت وأديتا فيه جاز؛ لأنها أديت ناقصة كما وجبت. كذا في السراج الوهاج وهكذا في الكافي والتبيين لكن الأفضل في سجدة التلاوة تأخيرها وفي صلاة الجنازة التأخير مكروه. هكذا في التبيين ولايجوز فيها قضاء الفرائض والواجبات الفائتة عن أوقاتها كالوتر. هكذا في المستصفى والكافي".

الفتاوى الهندية (1 / 121):
"متى قضى الفوائت إن قضاها بجماعة فإن كانت صلاة يجهر فيها يجهر فيها الإمام بالقراءة وإن قضاها وحده يتخير بين الجهر والمخافتة والجهر أفضل كما في الوقت ويخافت فيما يخافت فيه حتما وكذا الإمام، كذا في الظهيرية". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200887

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں