بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

موٹر سائیکل کی قسط کی تاخیر پر جرمانہ ادا کرنا


سوال

میں نے سوزوکی کمپنی سے موٹر سائیکل قسطوں پر لی، جو نقد اور قسط دونوں صورتوں میں ایک قیمت کی تھی، کوئی اضافی رقم نہیں تھی قسط پر لینے سے، شروع میں کوئی ایسی شرط  بھی سامنے نہیں آئی جو مشکوک بنائے، بعد میں پتا چلا کہ اگر ماہانہ قسط جمع کروانے میں تاخیر ہو جائے تو بیس روپے یومیہ جرمانہ ہوتا ہے۔ اس شرط کا علم ہونے کے بعد سے بہت کوشش کی اور اکٹھے پیسے جمع کرواتا رہا، تاکہ جرمانہ سے بچا جا سکے، لیکن ایک دو بار ایسی تاخیر ہوئی جس پر جرمانہ ہوا اور تاخیر کی وجہ سے  کمپنی کی طرف سے کال اور میسج کا نہ آنا تھا، جس کا اعتراف کمپنی کے ملازم نے بھی کیا،  سوال یہ ہے کیا یہ اضافی پیسے حرام تھے اور اگر سود میں شامل تھے تو کیا میں بھی گناہ گار ہوں؟ اب میں اس نحوست کو خود سے کیسے دور کر سکتا ہوں؟

جواب

قسطوں کے کاروبار میں اگر شرعی شرائط (قسط کی رقم متعین ہو، مدت متعین ہو، معاملہ متعین ہو کہ نقد کا معاملہ کیا جارہا ہے یا ادھار،  اور  کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں کسی بھی عنوان سے اس میں اضافہ وصول نہ کیا جائے ) کا  لحاظ رکھا جائے تو قسطوں پر لین دین جائز ہے، لیکن قسط کی ادائیگی میں تاخیر پر جرمانہ لینا اور دینا یا بوقتِ عقد یہ شرط رکھنا  ناجائز ہے۔ اگر عقد کے وقت ایسی کوئی شرط زبانی یا تحریری معاہدے میں داخل نہیں تھی تو نفسِ عقد درست ہوا، اب اضافی رقم لینا اور دینا ناجائز ہوگا۔  لیکن اگر عقد میں ہی یہ تحریری شرط تھی، لیکن سائل نے شرائط و ضوابط میں اسے پڑھے بغیر ہی عقد منظور کرلیا تو یہ عقد فاسد ہوا۔

بہر حال اب  اس پرخوب  توبہ واستغفار کریں، اگر عقد فاسد ہونے کی صورت ہو تو پچھلے عقد کو فسخ کرکے ازسرِ نو جائز معاہدہ کریں، بصورتِ دیگر جلد از جلد اس معاملہ کو ختم کرنے کی کوشش کریں کہ بقایا رقم یک مشت ادا کردیں، اگر آپ کے پاس بندوبست نہیں ہے تو کسی سے قرض لے کر ادا کردیں، اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو  جب تک اقساط باقی ہیں ان کو بروقت ادا کرنے کو یقینی بنائیں، اگرچہ ان کا ملازم فون نہ کرے ، آپ خود اس کا اہتمام کرلیں، تاکہ تاخیر کی وجہ سے جرمانہ کی نوبت نہ آئے۔ اور آئندہ اس قسم کے معاملہ کرنے سے اجتناب کریں۔

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"وإذا عقد الْعَقْدَ عَلَى أَنَّهُ إلَى أَجَلِ كَذَا بِكَذَا وَبِالنَّقْدِ بِكَذَا، أَوْ قَالَ: إلَى شَهْرٍ بِكَذَا أَوْ إلَى شَهْرَيْنِ بِكَذَا، فَهُوَ فَاسِدٌ؛ لِأَنَّهُ لَمْ يُعَاطِهِ عَلَى ثَمَنٍ مَعْلُومٍ؛ وَلِنَهْيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  عَنْ شَرْطَيْنِ فِي بِيَعٍ، وَهَذَا هُوَ تَفْسِيرُ الشَّرْطَيْنِ فِي بِيَعٍ، وَمُطْلَقُ النَّهْيِ يُوجِبُ الْفَسَادَ فِي الْعُقُودِ الشَّرْعِيَّةِ، وَهَذَا إذَا افْتَرَقَا عَلَى هَذَا، فَإِنْ كَانَ يَتَرَاضَيَانِ بَيْنَهُمَا وَلَمْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى قَاطَعَهُ عَلَى ثَمَنٍ مَعْلُومٍ، وَأَتَمَّا الْعَقْدَ عَلَيْهِ فَهُوَ جَائِزٌ؛ لِأَنَّهُمَا مَا افْتَرَقَا إلَّا بَعْدَ تَمَامِ شَرَطِ صِحَّةِ الْعَقْدِ".  (13 /9، باب البیوع الفاسدہ، ط: غفاریہ)                     

         شرح المجلہ میں ہے:

"البیع مع تأجیل الثمن و تقسیطه صحیح ...  یلزم أن تکون المدة معلومةً في البیع بالتأجیل والتقسیط".  (2/166، المادۃ 245، 246، ط: رشیدیہ) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144102200074

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے