بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مونچھیں لمبی رکھنے کی وعید سے متعلق ایک حدیث کی تحقیق


سوال

مونچھوں سے متعلق ایک حدیث کا صحیح حوالہ بتادیجیے، حدیث یہ ہے:

 ”من طول شاربه عوقب بأربعة أشیاء: لایشرب من حوضي، ولایجد من شفاعتي، ...‘‘ الخ 

مہربانی فرماکر پوری حدیث بحوالہ ترجمہ کے ساتھ اور یہ کس درجہ کی حدیث ہے بتادیجیے، جہاں میں نے پڑھی تھی وہاں ’’اوجزالمسالک‘‘  کا حوالہ دیا ہوا تھا،  لیکن مجھے کتاب نہ مل سکی؟

جواب

حضرت شیخ الحدیث  محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ نے  ’’موطا امام مالک‘‘  کی شرح ”اوجز المسالک“ میں امام ابی منصور محمد بن مکرم الکرمانی کی کتاب ”المسالک فی المناسک“ کے حوالہ یہ بات  بطورِ حدیث نقل کی ہے کہ : ” جو شخص مونچھیں لمبی کرے گا، تو اسے چار قسم کا عذاب ہوگا، اسے میری شفاعت نصیب نہیں ہوگی، اور وہ میرے حوض سے پانی نہیں پیے گا، اور اسے قبر میں عذاب دیا جائے گا، اور اللہ تعالیٰ اس کی طرف منکر نکیر کو  غصہ کی حالت میں بھیجیں گے“۔

"أورد الكرماني في  مناسكه إثم  تطويل الشوارب  وعقوبته، فقال : قال النبي  صلي الله عليه وسلم: "من طول شاربه عوقب بأربعة أشياء: لايجد  شفاعتي، ولايشرب من حوضي، ويعذب في قبره، ويبعث الله إليه المنكر  والنكير في غضب". (اوجز المسالک  16/260، کتاب صفۃ النبی ﷺ، رقم الحدیث : 1638،ط: دارالقلم دمشق)

اور خود علامہ ابو منصور کرمانی  نے اپنی کتاب”المسالک فی المناسک“ میں یہ حدیث  بغیر سند کے نقل کی ہے، (1/192)، اور اس کے علاوہ ان الفاظ سےتلاش کے باوجود  ذخیر ہ احادیث میں کوئی حدیث نہیں مل سکی، جب کہ اس کے قریب ایک حدیث ”من طول شاربه في دار الدنيا طول الله ندامته يوم القيامة ...‘‘  الخ کہ جو شخص مونچھیں لمبی رکھے گا ، اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن اسے کی ندامت کو طویل کردیں گے۔۔۔ الخ(اس کے الفاظ ذیل کے حوالے میں درج ہیں)  موضوعات کی کتابوں میں موجود ہے، اس پر علامہ شوکانی نے ’’الفوائد المجموعہ‘‘  میں اور علامہ سیوطی نے ’’اللآلی المصنوعہ‘‘  میں موضوع اور من گھڑت ہونے کا حکم لگایا ہے۔

لہذا مذکورہ بات کی نسبت آپ ﷺ کی طرف کرنےسے اجتناب کیا جائے۔

الفوائد المجموعة (ص: 197) محمد بن علي بن محمد الشوكاني (المتوفى: 1250هـ) :
’’حديث: "من طول شاربه في دار الدنيا طول الله ندامته يوم القيامة، وسلط عليه بكل شعرة على شاربه شيطانان، فإن مات على ذلك الحال لاتستجاب له دعوة، ولاتنزل عليه رحمة ... إلخ.هو موضوع في إسناده: وضاع ومجاهيل‘‘.

اللآلىء المصنوعة في الأحاديث الموضوعة (2/ 226)عبد الرحمن بن أبي بكر، جلال الدين السيوطي (المتوفى: 911هـ) :
’’ عَن حَمّاد بْن زيد عَن أَنَسٍ مَرْفُوعًا: مَنْ طَوَّلَ شَارِبَهُ فِي دَارِ الدُّنْيَا طَوَّلَ اللَّهُ نَدَامَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَسَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِكُلِّ شَعْرَةٍ عَلَى شَارِبِهِ سَبْعِينَ شَيْطَانًا، فَإِنْ مَاتَ عَلَى ذَلِكَ الْحَالِ لَاتُسْتَجَابُ لَهُ دَعْوَةٌ، وَلاتَنْزِلُ عَلَيْهِ رَحْمَةٌ، وَلايَنْظُرُ اللَّهُ تَعَالَى إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ أَطَالَ شَارِبَهُ تُسَمِّيهِ الْمَلائِكَةُ نَجِسًا، وَإِنْ مَاتَ مَاتَ عَاصِيًا وَقَامَ مِنْ قَبْرِهِ مَكْتُوبًا بَيْنَ عَيْنَيْهِ آيِسٌ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ، وَلا يُطَوِّلُ شَارِبَهُ إِلا مَلْعُونٌ عَلَى لِسَانِ الْمَلائِكَةِ وَالنَّبِيِّينَ وَيَمْشِي عَلَى الأَرْضِ وَالأَرْضُ تَلْعَنُهُ مِنْ تَحْتِهِ، وَمَنْ طَوَّلَ شَارِبَهُ فَلايُصِيبُ شَفَاعَتِي، وَلايَشْرَبُ مِنْ حَوْضِي، وَضَيَّقَ اللَّهُ عَلَيْهِ قَبْرَهُ، وَشَدَّدَ عَلَيْهِ مُنْكَرًا وَنَكِيرًا، وَأَظْلَمَ عَلَيْهِ قَبْرَهُ، وَيُنَزِّلُ عَلَيْهِ مَلَكَ الْمَوْتِ وَهُوَ عَلَيْهِ غضبان، وَمَنْ قَصَّ شَارِبَهُ فَلَهُ عِنْدَ اللَّهِ بِكُلِّ شَعْرَةٍ مِنَ الثَّوَابِ أَلْفُ مَدِينَةٍ مِنْ دُرٍّ وَيَاقُوتٍ فِي كُلِّ مَدِينَةٍ أَلْفُ قَصْرٍ فِي كُلِّ قَصْرٍ أَلْفُ دَارٍ مِنَ الرَّحْمَةِ فِي كُلِّ دَارٍ أَلْفُ حُجْرَةٍ مِنَ الزَّعْفَرَانِ فِي كُلِّ حُجْرَةٍ أَلْفُ صُفَّةٍ مِنَ الزَّبَرْجَدِ فِي كُلِّ صُفَّةٍ أَلْفُ بَيْتٍ مِنَ الْمِسْكِ فِي كُلِّ بَيْتٍ أَلْفُ سَرِيرٍ فَوْقَ كُلِّ سَرِيرٍ جَارِيَةٌ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ عَلَى رَأْسِهَا تَاجٌ مِنَ النُّورِ مُكَلَّلٌ بِالدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ وَهِيَ تَقُولُ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ مَرَّةٍ أَنْتَ طَالِبِي وَقُرَّةُ عَيْنِي وَأَنْتَ صَاحِبِي فَنَظَرَ اللَّهُ تَعَالَى إِلَيْهِ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ مَرَّةٍ مِنْ فَوْقِ عَرْشه وَيَقُول لملائكته أَلا تَنْظُرُونَ إِلَى عَبْدِي قَصَّ شَارِبَهُ مِنْ مَخَافَتِي وَعِزَّتِي وَجَلالِي لأُضْعِفُ نُورَ كَرَامَتِي وَلأُزَيِّنَهُ بَيْنَ النَّاسِ وَلأُدْخِلَنَّهُ جَنَّتِي.

مَوْضُوع، فِيهِ مَجَاهِيل والمُتَهم بِهِ جَابَان‘‘. فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200462

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے