بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

موقوف حدیث سے کیا مراد ہے؟


سوال

موقوف سے کیا مراد ہے؟ میں نے اس ویب سائٹ پر ایک فتویٰ جمعے کے دن بعد نماز عصر درود شریف کے حوالے سے پڑھا ہے، اس میں حدیث کو موقوف کہا گیا ہے، سوال یہ ہے کہ اس حدیث کو موقو ف کیوں کہا گیا ہے؟ لنک درج ذیل ہے:

جمعہ کے دن عصر کے بعد اسی(۸۰) مرتبہ پڑھا جانے والا درود شریف (ثبوت و تحقیق)

جواب

عام طور پر صحابی حدیث کی روایت کرتے وقت روایت کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف کرتے ہیں جسے ’’حدیثِ مرفوع‘‘  کہا جاتا ہے، لیکن اگر  حدیث روایت کرتے وقت صحابی نے رسول اللہ ﷺ کی طرف اس حدیث کی نسبت نہ کی ہو، بلکہ خود سے اس کو روایت کیا ہو اس حدیث کو ’’حدیثِ موقوف‘‘  کہا جاتا ہے، حدیثِ موقوف اصطلاح کے اعتبار سے تو جدا نام رکھتی ہے، لیکن خلافِ قیاس امور (یعنی عبادات و اعمال اور عقائد و امورِ آخرت وغیرہ) میں حدیثِ موقوف بھی حدیثِ مرفوع کے حکم میں ہوتی ہے۔

مذکورہ لنک میں جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد اسی (۸۰ ) مرتبہ پڑھے جانے والے درود شریف سے متعلق حدیث  کی دونوں روایتوں میں راوی ( صحابی ) نے روایت نقل کرتے وقت روایت کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف نہیں کی (یعنی پہلی روایت میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور دوسری روایت میں حضرت سہل ابن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے براہ راست اپنی طرف سے روایت نقل کی ہے، رسول اللہ ﷺ کی طرف روایت کی نسبت نہیں کی ہے ) اس لیے یہ حدیث موقوف کہلائے گی، البتہ یہ دونوں روایتیں  حکماً مرفوع ہیں، اس لیے کہ یہ ثوابِ مخصوص کے بارے میں ہیں، اور اوپر گزرچکاہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے وہ اقوال جو مخصوص ثواب یا عقاب کے بارے میں ہوں وہ مرفوع کے حکم میں ہوتے ہیں۔

تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي (1/ 202):

"النوع السادس: المرفوع: وهو ما أضيف إلى النبي صلى الله عليه وسلم خاصةً لايقع مطلقه على غيره متصلاً كان أو منقطعاً، وقيل: هو ما أخبر به الصحابي عن فعل النبي صلى الله عليه وسلم أو قوله.

النوع السابع: الموقوف: وهو المروي عن الصحابة قولاً لهم أو فعلاً أو نحوه متصلاً كان أو منقطعاً، ويستعمل في غيرهم مقيداً، فيقال: وقفه فلان على الزهري ونحوه، وعند فقهاء خراسان تسمية الموقوف بالأثر والمرفوع بالخبر. وعند المحدثين كل هذا يسمى أثراً".

تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي (1/ 212):

"من المرفوع أيضاً ما جاء عن الصحابي، ومثله لايقال من قبل الرأي، ولا مجال للاجتهاد فيه فيحمل على السماع، جزم به الرازي في " المحصول "، وغير واحد من أئمة الحديث. وترجم على ذلك الحاكم في كتابه "معرفة المسانيد التي لايذكر سندها "، ومثله بقول ابن مسعود: من أتى ساحراً أو عرافاً فقد كفر بما أنزل على محمد صلى الله عليه وسلم. وقدأدخل ابن عبد البر في كتابه " التقصي " عدة (63 \ ب) أحاديث من ذلك، مع أن موضوع الكتاب للمرفوعة، منها حديث سهل بن أبي خيثمة في صلاة الخوف، وقال في "التمهيد ": هذا الحديث موقوف على سهل، ومثله لايقال من قبل الرأي. نقل ذلك العراقي، وأشار إلى تخصيصه بصحابي لم يأخذ عن أهل الكتاب". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200739

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے