بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1441ھ- 04 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

موجودہ زمانے میں لونڈی رکھنا


سوال

لونڈی رکھنا جائز ہے؟ کیوں کہ اب بھی دنیا کے کئی  ممالک اور پاکستان میں بھی عورتیں فروخت ہوتی ہیں؟

جواب

غلام وباندی کا دستور  اسلام سے قبل قدیم زمانے سے چلا آرہا تھا اور ہر قوم میں یہ عادت پائی جاتی تھی خواہ عیسائی ہوں یا یہودی، ہنود ہوں یا دیگر اقوام، اسی طرح عربوں میں یہ دستور کثرت سے رائج تھا، یہاں تک کہ اسی لالچ میں ایک قبیلہ دوسرے قبیلے پر چڑھائی کردیتا تاکہ غالب آکر مغلوب قبیلہ کے اسیروں کو غلام اور باندی بنا سکے ۔ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل غلام یاباندی بنانے کے مختلف طریقے لوگوں میں رائج تھے۔
اول: جنگی قیدیوں کو غلام یا باندی بنانے کا طریقہ۔
دوم: لوگ، فقر وفاقہ کے باعث یا قرض کے دباؤ میں آکر اپنے بچوں کو یا خود اپنے آپ کو کسی کے ہاتھ فروخت کر دیتے اور وہ ان کو اپنا غلام یا باندی بنا لیتے۔
سوم:کسی جرم کی پاداش یا قمار بازی میں ہارے جانے کی صورت میں لوگ غلام بنالیے جاتے تھے۔
چہارم: یوں بھی کسی کو چرا کر لے آتے او رزبردستی غلام یا باندی بنالیتے وغیرہ۔
آں حضرت صلی اﷲعلیہ وسلم نے غلامی کی ان تمام صورتوں کو سخت ناجائز اور موجبِ عذابِ الٰہی قرار دیا اور صرف ایک صورت کو باقی رکھا۔ یعنی وہ  کفار جو جنگ میں گرفتا رکیے جائیں، مسلمان حاکم کو اختیار ہے کہ اگر مقتضائے مصلحت و سیاست بہتر سمجھے تو ان کفار قیدیوں کو غلام/باندی بنالے۔چوں کہ کفار مسلمان قیدیوں کو غلام اور باندی بناتے تھے؛ اس لیے مسلمانوں کومخصوص حالات میں اس کی اجازت دی گئی۔

لہذاموجودہ زمانہ میں جو عورتیں ظلماً فروخت کی جاتی ہیں، انہیں لونڈی بنانا جائز نہیں۔ نیز غلامی درحقیقت کفر کی سزا ہے، اس لیے ابتداءً کسی مسلمان کو غلام بنانا بھی جائز نہیں ہے۔ (فتاوی بینات جلد چہارم)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200202

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں