بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1441ھ- 04 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

موت کے بعد تقسیمِ وراثت کا زندگی میں ہی سوال


سوال

میرے ماں باپ زندہ نہیں، میری ایک بیوی، ایک بیٹا اور 6 بیٹیاں ہیں، 3 بہنیں 5 بھائی بھی ہیں ۔ میری ملکیت کی وراثت کس طرح ہوگی؟  جس فلیٹ میں ہم رہ رہے ہیں وہ میری بیوی کے نام ہے، کیا وہ بھی وراثت میں شامل ہوگا یا بیوی کی ملکیت تصور ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ شرعی طور پر ورثاء وہ ہوتے ہیں جو میت کی موت کے وقت زندہ ہوں اور کس کی موت پہلے آئے گی، کس کی بعد میں؟  یہ صرف اللہ ہی کے علم میں ہے؛  لہذا کسی کی زندگی میں حتمی طور پر اس کی موت کے وقت موجود ورثاء اور ان میں تقسیمِ میراث کا نہیں بتایا جاسکتا۔

تاہم اگر ایک آدمی کے ورثاء میں ایک بیوہ، ایک بیٹا، 6 بیٹیاں، 3 بہنیں اور 5 بھائی ہوں تو بیٹے کی موجودگی میں اس کے بھائیوں اور بہنوں کو حصہ نہیں ملے گا اور اس کی بیوہ کو 12.5%، اس کے بیٹے کو 21.875% اور ہر بیٹی کو  10.9375% حصہ ملےگا۔

گھر بیوی کے نام کردینے کے بعد اگر گھر سے اپنا قبضہ اور تصرف مکمل ہٹا کر بیوی کے قبضہ اور تصرف میں دے دیا ہو تو وہ گھر بیوی کی ملکیت ہوگا اور اگر صرف کاغذات میں بیوی کے نام کیا ہو اور اپنا قبضہ اور تصرف اس گھر سے ایک مرتبہ بھی نہیں ہٹایا ہو تو ایسی صورت میں گھر بیوی کی ملکیت شمار نہیں ہوگا، بلکہ آپ کی ملکیت ہوگا اور آپ کے مرنے کے بعد آپ کے ترکہ میں شمار ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 689):
"جعلته باسمك فإنه ليس بهبة".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200450

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں