بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

موبائل پر لگے پروٹیکٹر کے اوپر سے قرآن مجید کو بے وضو ہاتھ لگانا


سوال

موبائل فون میں موجود قرآنِ مجید کو پڑھنے کے حوالہ سے فتویٰ میں یہ آتا ہے کہ بے وضو موبائل کو ہاتھ میں لے کر اس میں قرآن کھول کرپڑھا جاسکتا ہے، مگر موبائل فون کی اسکرین کو ہاتھ سے چھونے کے لیے وضو ہونا ضروری ہے، (اسکرین کو چھونے کی ضرورت صفحہ تبدیل کرنے کے وقت پڑتی ہے)۔

سوال یہ ہے کہ آج کل موبائل فون کی اسکرین کی حفاظت کے لیے پروٹیکٹر کو اسکرین پر چسپاں کر دیا جاتا ہے،  یہ پروٹیکٹر شفاف اور چند ملی میٹر موٹے ہوتے ہیں؟ کیا ایسی صورت میں موبائل کی اسکرین کو قرآن کھلے ہونے کی حالت میں بے وضو ہاتھ لگایا جا سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جو پروٹیکٹر موبائل فون کی اسکرین پر چسپاں کر دیا جاتا ہے، وہ بھی اسکرین کا حصہ بن جاتا ہے اور جو کام  پروٹیکٹر کے بغیر اسکرین پر ہاتھ لگانے سے موبائل فون سےلیا جاتا ہے وہی کام  پروٹیکٹر  کے اوپر سے بھی لیا جاتا ہے، لہذا جب پروٹیکٹر موبائل فون کی اسکرین ہی کا حصہ اور جزء ہے تو پروٹیکٹر کے اوپر سے بھی موبائل پر کھلے قرآنِ کریم کو بغیر وضو ہاتھ لگانا جائز نہ ہو گا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200998

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے