بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

موبائل پر آن لائن گیم (8ball poll ) کھیلنے اور اس کے کوئن کی خرید و فروخت کا حکم


سوال

موبائل فون کے اندر ایک گیم متعارف کرایا گیا ہے" 8ball pool "کے نام سے، اس میں کوائنز موجود ہوں تو اس کی بنا پر کھیلا جاتا ہے، اب اگر یہی کوائنز (اس کو اس گیم کا روپیہ ہی کہا جاسکتا ہے) ختم ہو جائیں تو اس کو دو بارہ خریدا جاتا ہے اصل اور نقد روپے سے، اور یہ روپے آپ موبائل دکان دار کو دوگے تو پھر وہ آپ کو 300 روپوں میں 20 ملین تک کوائنز ڈال دیتا ہے۔ تو کیا یہ 300 روپیہ بائع کے لیے لینا اور مشتری کے لیے دینا جائز ہے یا ناجائز ؟ اور یہ کاروبار بھی جائز ہے یا نہیں؟

جواب

آج کل موبائل فون پر مختلف ناموں سے آن لائن گیم موجود ہیں، ان گیمز کے مختلف مراحل کو پاس کرنے کی صورت میں کچھ فرضی کوئن ملتے ہیں اور ان کوئن کے ذریعہ گیم کے اگلے مراحل کو کھیلا جاسکتا ہے، بہت سے لوگ اس طرح کے گیم کھیل کر کوئن جمع کرتے رہتے ہیں اور پھر دیگر لوگوں کو یہ کوئن پیسوں کے بدلہ بیچ دیتے ہیں اور کوئن خریدنے والے لوگ پھر ان کوئن سے یہ گیم کھیلتے ہیں اور ختم ہوجانے کی صورت میں مزید کوئن خرید لیتے ہیں، اور یوں یہ خرید و فروخت کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ یہاں  دو باتیں غور طلب ہیں: ایک یہ کہ اس خرید و فروخت کا شرعاً   کیا حکم ہے ؟ اور دوسرا یہ کہ ان کوئن کی خرید و فروخت سے قطع نظر اس طرح کے گیموں کا نفس کھیلنا کیسا ہے؟

جہاں تک کوئن کی خرید و فروخت کا معاملہ ہے تو جاننا چاہیے کہ خرید و فروخت  کے جائز ہونے کی بنیادی شرطوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ  مبیع (جس  چیز کو بیچا جارہا ہے) اور ثمن( جس کے ذریعے  کسی چیز کو خریدا جارہا ہے)   خارج میں مادی شکل میں  موجود ہوں، اور وہ مالِ متقوم ہو، محض فرضی چیز نہ ہوں، لہذا جس چیز کا خارج میں وجود نہ ہو اور نہ ہی اس کے پیچھے کوئی جامد اثاثے ہوں  تو شرعاً ایسی  چیزوں کی خرید وفروخت جائز نہیں ہے۔

لہذاآن لائن گیم کے کوئن  چوں کہ صرف ایک فرضی چیز ہے، خارج میں اس کا کوئی وجود نہیں ، اس لیے اس میں مبیع بننے کی صلاحیت نہیں ،  نیز آن لائن گیم  کے کوئن  کو معتدبہ تعداد تک پہنچا کر فروخت  کرنے کے لیے کافی عرصہ لگتا ہے، اور یہ لہو ولعب میں لگ کر وقت اور مال دونوں کا ضیاع ہے، اور اگر گیم میں جان دار کی تصاویر ہوں تو یہ ایک اور شرعی قباحت ہے، اس لیے آن لائن گیم  کے کوئن کی  خرید وفروخت  شرعاً جائز  نہیں ہے۔

دوسری بات  یہ ہے  کہ  کسی بھی قسم کا کھیل جائز ہونے کے لیے مندرجہ ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری ہے، ورنہ وہ کھیل لہو ولعب میں داخل ہو نے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام ہوگا:

1۔۔  وہ کھیل بذاتِ خود جائز ہو، اس میں کوئی ناجائزبات نہ ہو۔

2۔۔  اس کھیل میں کوئی دینی یا دنیوی منفعت  ہو مثلاً جسمانی  ورزش وغیرہ ، محض لہو لعب یا وقت گزاری کے لیے نہ کھیلا جائے۔

3۔۔  کھیل میں غیر شرعی امور کا ارتکاب نہ کیا جاتا  ہو، مثلاً جوا وغیرہ۔

4۔۔ کھیل میں اتنا غلو نہ کیا جائے  کہ شرعی فرائض میں کوتاہی یا غفلت پیدا ہو۔

         حاصل یہ ہے کہ اگر آن لائن گیم میں   مذکورہ خرابیاں پائی جائیں  یعنی اس میں غیر شرعی امور کا ارتکاب کیا جاتا ہو، مثلاً جان دار کی تصاویر، موسیقی اور جوا وغیرہ  ہوں ، یا مشغول ہوکر  شرعی فرائض اور واجبات میں کوتاہی  اور غفلت برتی جاتی ہو، یا اسے محض  لہو لعب کے لیے کھیلا جاتا ہو تو  خود اس طرح  کا گیم کا کھیلنا  بھی جائز نہیں ہوگا۔ اور اگر یہ خرابیاں نہ ہوں تو بھی موبائل پر گیم کھیلنے میں نہ جسمانی ورزش ہے، نہ دینی یا بامقصد دنیوی فائدہ ہے، اس لیے بہرصورت اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 58):

"إذ من شرط المعقود عليه: أن يكون موجوداً مالاً متقوماً مملوكاً في نفسه، وأن يكون ملك  البائع فيما ببيعه لنفسه، وأن يكون مقدور التسليم، منح".

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 138 ، ۱۴۰ ):

"وأما الذي يرجع إلى المعقود عليه فأنواع (منها) : أن يكون موجودا فلاينعقد بيع المعدوم ... (ومنها) أن يكون مالاً لأن البيع مبادلة المال بالمال".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 518):

"وفي الأشباه: لايجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة، وعلى هذا لايجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف.

مطلب: لايجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة (قوله: لايجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة عن الملك) قال: في البدائع: الحقوق المفردة لاتحتمل التمليك ولايجوز الصلح عنها".

روح المعانی میں ہے:

’’ولهو الحديث على ما روي عن الحسن كل ما شغلك عن عبادة الله تعالى وذكره من السمر والأضاحيك والخرافات والغناء ونحوها‘‘. (تفسیر الآلوسي (11 / 66)، سورة لقمان، ط:دار الکتب العلمیة)

تکملۃ فتح الملهممیں ہے:

’’فالضابط في هذا . . . أن اللهو المجرد الذي لا طائل تحته، وليس له غرض صحيح  مفيد في المعاش ولا المعاد حرام أو مكروه تحريماً، . . . وما كان فيه غرض  ومصلحة دينية أو دنيوية، فإن ورد النهي  عنه من الكتاب أو السنة . . . كان حراماً أو مكروهاً تحريماً، ... وأما مالم يرد فيه النهي عن الشارع وفيه فائدة ومصلحة للناس، فهو بالنظر الفقهي علي نوعين ، الأول ما شهدت التجربة بأن ضرره أعظم من نفعه ومفاسده أغلب علي منافعه، وأنه من اشتغل به الهاه عن ذكر الله  وحده وعن الصلاة والمساجد التحق ذلك بالمنهي عنه لاشتراك العلة فكان حراماً أو مكروهاً، والثاني ماليس كذالك  فهو أيضاً إن اشتغل به بنية التلهي والتلاعب فهو مكروه، وإن اشتغل به لتحصيل تلك المنفعة وبنية استجلاب المصلحة فهو مباح،  بل قد ير تقي إلى درجة الاستحباب أو أعظم منه . . . وعلي هذا الأصل فالألعاب التي يقصد بها رياضة الأبدان أو الأذهان جائزة في نفسها مالم يشتمل علي معصية أخري، وما لم يؤد الانهماك فيها إلى الاخلال بواجب الإنسان في دينه و دنياه‘‘. (تکملة فتح الملهم، قبیل کتاب الرؤیا، (4/435) ط:  دارالعلوم کراچی) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201232

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے