بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شعبان 1441ھ- 29 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

موبائل میں قرآنِ کریم بلاوضو پڑھنا


سوال

کیا موبائل میں قرآنِ کریم بلا وضو پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ موبائل فون میں قرآنِ کریم، احادیثِ مبارکہ وغیرہ کو محفوظ کرنا اور پھر موبائل فون کی اسکرین پر نمودار، آیاتِ قرآنیہ کو دیکھ کر اس کی تلاوت کرنا جائز اور باعث ثواب ہے، مگر ایسی صورت میں قرآنِ کریم کے مکمل حقوق اور آداب کی رعایت رکھنا ضروری ہوگا، تاکہ بے ادبی اور گناہ لازم نہ آئے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں موبائل فون پر نمودار آیات قرآنیہ کو دیکھ کر اس سے تلاوت کرنا جائز اور باعث ثواب ہے، لیکن ایسی صورت میں اگر صفحات پلٹنے وغیرہ کی غرض سے حروفِ قرآنیہ کو چھونے کی ضرورت ہو تو باوضو طور پر اس کو چھونا ضروری ہے، بلاوضو حروفِ قرآنیہ والی جگہ کو چھونا جائز نہیں ہوگا۔

البتہ اگر سامنے اسکرین پر آیاتِ قرآنیہ نمودار نہ ہوں اور قرآن کریم والا فولڈرApp  بند ہو تو ایسے موبائل کو بغیر وضو کے بھی ہاتھ میں لے سکتے ہیں۔

الدر مع الرد میں ہے:

"(وَ) يَحْرُمُ (بِهِ) أَيْ بِالْأَكْبَرِ (وَبِالْأَصْغَرِ) مَسُّ مُصْحَفٍ: أَيْ مَا فِيهِ آيَةٌ كَدِرْهَمٍ وَجِدَارٍ.

(قَوْلُهُ: أَيْ مَا فِيهِ آيَةٌ إلَخْ) أَيْ الْمُرَادُ مُطْلَقُ مَا كُتِبَ فِيهِ قُرْآنٌ مَجَازًا، لَكِنْ لَا يَحْرُمُ فِي غَيْرِ الْمُصْحَفِ إلَّا بِالْمَكْتُوبِ: أَيْ مَوْضِعُ الْكِتَابَةِ". (كتاب الطهارة (1/173، و176، ط: سعيد)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"ويمنع دخول مسجد إلى قوله: ومسه أي القرآن ولو في لو أو درهم أو حائط. لكي لايمنع الأمن مس المكتوب ..." الخ (ص: 293، ط: سعيد)

وكذا في الهندية 5/323، وكذا في حاشية الطحطاوي ص144. فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144106200030

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے