بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

موبائل میں قرآن کریم محفوظ ہونے کی صورت میں بیت الخلا لے جانے کا حکم

سوال

موبائل میں قرآنِ مجید محفوظ ہو، لیکن موبائل کی سکرین بند ہو اور موبائل جیب میں ہو  تو کیا قضائے حاجت کے لیے  بیت الخلا  جانا جائز ہے؟ 

جواب

اگر قرآنِ کریم کی پی ڈی ایف/  اپیلی کیشن موبائل اسکرین پر ظاہر  ہو تو  اسے بیت الخلا  میں لے جانا ممنوع ہوگا،  بصورتِ دیگر گنجائش ہوگی، البتہ بیت الخلا  نہ لے جانا بہترہے؛ تاکہ بے ادبی کا شائبہ بھی نہ ہو۔

نیز  جب موبائل اسکرین پر قرآنِ مجید  کھلا ہو تو  اسے چھونے کے لیے باوضو ہونا ضروری ہے، بلا وضو اسکرین پر ہاتھ لگانا درست نہیں، البتہ  اسکرین کے علاوہ موبائل کے دیگر حصوں کو بلاوضو چھوسکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200589
تاریخ10-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں