بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 صفر 1442ھ- 24 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

مناھل اور عاتکہ نام رکھنے کا حکم


سوال

’’منا ھل‘‘   یا  ’’عاتکہ‘‘ ،ان دونوں میں سے  کون سا نام رکھنا بہتر ہے؟

جواب

’’مَنَاهِلْ‘‘ (میم اور نون کے زبر کے ساتھ )  عربی زبان کا لفظ ہے  اور لفظ ’’مَنْهَلْ‘‘  کی جمع ہے،’’مَنْهَلْ‘‘ کے معنی ہیں: پانی کا گھاٹ،  سیرابی حا صل کرنے کا مقام،  " جیسا کہ ''معجم الرائد'' میں ہے:   ’’مناهل: جمع منهل، عين الماء، نبع‘‘۔  لہذا  ’’مَنَاهِلْ‘‘  نام رکھنا شرعاً درست ہے۔

 "عاتکہ"  آپ ﷺ کی پھوپھی اور کئی صحابیات رضی تعالی عنھن کا نام ہے، اس کے معنی  بہت خوشبو ملنے والی، خالص سرخ جس میں کسی دوسرے رنگ کی آمیزش نہ ہو یا گہرا سرخ،  بہت خوشبو ملنے والی جس سے جلد کی سطح سرخ ہو جائے، شریف ذات والی، یہ نام بھی اچھا ہے۔

’’مناہل‘‘ اور ’’عاتکہ‘‘ میں سے زیادہ اچھا نام ’’عاتکہ‘‘ ہے؛  اس لیے کہ یہ کئی صحابیات کا نام بھی تھا، اور صحابہ اور صحابیات کے ناموں پر نام رکھنا باعث برکت ہوتا ہے۔

لسان العرب (10/ 463):
’’وعَتَكَتِ القَوْسُ تَعْتِك عَتْكاً وعُتوكاً، وَهِيَ عاتِك: احْمَرَّت مِنَ القِدَم وَطُولِ الْعَهْدِ. والعاتِكة: الْقَوْسُ إِذَا قَدُمَتْ واحْمَرَّت. وَامْرَأَةٌ عَاتِكَةٌ: مُحْمَرَّة مِنَ الطِّيب، وَقِيلَ: بِهَا رَدْعُ طِيبٍ،  وَسُمِّيَتِ المرأَة عَاتِكَةً لِصَفَائِهَا وحُمْرتها. وَفِي الْحَدِيثِ:  قَالَ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْمَ حُنَيْنٍ: أَنا ابْنُ العَواتك مِنْ سُلَيْم،  ؛ الْعَوَاتِكُ: جَمْعُ عَاتِكَةٍ، وأَصل الْعَاتِكَةِ المُتَضَمِّخة بِالطِّيبِ‘‘.
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144003200375

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں