بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1441ھ- 31 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

ممانی کا بھانجا بھانجی کے ساتھ حج پر جانا


سوال

 ایک بیوہ عورت(ممانی) اپنے بھانجے اور بھانجی کے ساتھ حج پر ازروئے شرع جاسکتی ہے یانہیں؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں!

جواب

مرد کے لیے اس کی ممانی (ماموں کی بیوی) شرعاً محرم نہیں ہے (اگر کوئی رشتہ محرمیت کا نہ ہو)، لہذا ممانی کے لیے اپنے شوہر کے بھانجے کے ساتھ حج پر جانا جائز نہیں ہے، اس لیے کہ اڑتالیس میل (سوا ستتر کلومیڑ) یا اس سے زیادہ مسافت  کا سفرہو تو  جب تک مردوں میں سے اپنا کوئی محرم  یا  شوہر ساتھ نہ  ہو اس وقت تک عورت کے لیے سفر کرنا  جائز نہیں ہے، حدیث شریف  میں  اس کی سخت ممانعت آئی ہے، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایات ہے کہ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ تین راتوں کی مسافت کے بقدر سفر  کرے، مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا محرم ہو۔

"عن عبد الله بن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر، تسافر مسيرة ثلاث ليال، إلا ومعها ذو محرم»".(الصحیح لمسلم، 1/433، کتاب الحج، ط: قدیمی)

اسی طرح بخاری شریف کی ایک روایت ہے کہ  عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ  انہوں نے آپ ﷺ سے سنا کہ آپ فرمارہے تھے: کوئی عورت کسی مرد سے تنہائی میں نہ ملے اور نہ کوئی عورت  بغیر محرم کے سفر کرے، تو حاضرین میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول!  میں نے فلاں جہاد کے سفر میں جانے کے لیے اپنا نام لکھوایا ہے، جب کہ میری بیوی حج کرنے جارہی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : جاؤ اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔

"عن ابن عباس رضي الله عنهما، أنه: سمع النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: «لا يخلونّ رجل بامرأة، ولاتسافرنّ امرأة إلا ومعها محرم»، فقام رجل فقال: يا رسول الله، اكتتبتُ في غزوة كذا وكذا، وخرجت امرأتي حاجةً، قال: «اذهب فحجّ مع امرأتك»". (صحيح البخاري (4/ 59)
مذکورہ روایات میں غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کس قدر تاکید سے  عورت کے لیے محرم کے بغیر سفر کرنے کی ممانعت آئی ہے کہ کہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لانے جیسی تاکید کے بعد یہ ممانعت ہے، اور کہیں شوہر کو  رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جہاد جیسے مقدس فریضہ  کے بجائے اس کی بیوی کے ساتھ حج کرنے کو کہا جارہا ہے، نیز حج کے فرض ہونے کے بعدبھی  عورت کے لیے محرم کے بغیر اس کی ادائیگی لازم نہیں ہوتی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200371

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے