بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1442ھ- 26 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

ملازم کا کمپنی کے کسٹمر کو کسی اور کے پاس بھیجنا


سوال

اگرکوئی نا جائزکام آئے،یعنی کوئی شخص کمپنی سے  دھوکہ سے کمپنی کے کسٹمر کواپناکسٹمربنائے،اوراس کسٹمرکاکام ہم سے کروائے،کیایہ جائزہوگا؟ کیونکہ ہم نے دھوکہ نہیں دیابس جوکام ملااس کوپوراکیا اورمحنت سے پیسے کمائے،نیزاس کسٹمرکوڈیل کرناکیساہے؟

جواب

اگرکوئی شخص کسی کمپنی کاملازم ہے تواس  کمپنی ملازم کے لیے جائزنہیں کہ کمپنی سے منسلک کسٹمرکوکسی اورکاکسٹمربنائے اور اس پر کمیشن وصول کرے کیونکہ یہ خیانت کے زمرے میں آتا ہے۔حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشادفرماتے ہیں:’’جوشخص خیانت کاکام کرے وہ مجھ سے نہیں ہے(مسلم)‘‘یعنی مجھ سے تعلق رکھنے والا نہیں،اورمیں اسے اپنے آدمیوں میں شمارنہیں کرتا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143707200025

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں