بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 13 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ملازمین کو ان کے حقوق سے روکنا


سوال

کسی کمپنی کا اپنے ورکرز کو وہ تمام حقوق نہ دینا جو ریاستی قوانین کے تحت لازم ہوں، مثلاً  کم سے کم وہ تنخواہ جو حکومت نے مقرر کی ہو یا میڈیکل ،گریجویٹی وغیرہ،  کیاایسا کرنا جائز ہے؟ اور اپنے ورکرز کو ان کے قانونی حقوق سے محروم کرنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ یہاں کمپنی کے معاملے کی دو حیثیت ہیں، ایک ہے کمپنی کا اپنے ورکرز سے معاہدہ، اور ایک کمپنی کا ریاستی اداروں سے قوانین کی پاس داری کا معاہدہ وغیرہ۔ جہاں تک کمپنی کا ریاستی  قوانین کی پاس داری کا معاہدہ ہے  اگر کسی کمپنی یا ادارے نے باقاعدہ طور پر یہ معاہدہ کیا ہو تو اس کی رو سے کسی بھی کمپنی کے ذمہ داران کے لیے کسی بھی ملازم کا شرعاً ثابت شدہ حق روکنے کی اجازت نہیں ہے، اور جو اس طرح لوگوں کے حقوق ناجائز  طور پر دبائے، شریعت کی نگاہ میں مجرم ہے اور اسے وعدہ خلافی کا گناہ ہوگا۔

لیکن معاہدے کی دوسری حیثیت یہ ہے کہ کمپنی اپنے ملازمین سے باقاعدہ معاہدہ کرکے ان کا تقرر کرے، اور اس معاہدے کی رو سے ملازم خود کم تن خواہ یا دیگر سہولیات سے دست برداری پر راضی ہو تو ایسی صورت میں ملازم کو بعد ازاں اضافی تن خواہ یا ان سہولیات کے مطالبے کا حق نہیں ہوگا جن سے وہ خود دست بردار ہوچکاہو۔ ہاں وہ حقوق جو ورکرز کے بنیادی انسانی حقوق ہیں ان کے حصول کے لیے اسلامی اَخلاقی اَقدار کی رعایت رکھتے ہوئے مطالبہ کیا جاسکتاہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201275

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے