بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الثانی 1441ھ- 14 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مقروض پر زکاۃ


سوال

اگر کسی کے پاس بینک میں پیسے رکھے ہیں، لیکن اس نے  گھر کے لیے قرض بھی لیا ہوا ہے، اور اس کے قرض کی مقدار اس کی بینک کی رقم سے زیادہ ہے  جو کہ یہ ماہانہ اقساط  پر دے رہا ہے، تو کیا اس پر زکاۃ آئے گی؟

جواب

گھر کے قرض کی جتنی اقساط ایک سال میں ادا کرنی ہوں اتنی رقم کل مال (نقدی، مالِ تجارت اور زیور وغیرہ) سے منہا کرنے کے بعد اگر بقیہ مال نصابِ زکاۃ (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) کے برابر ہو اور حاجاتِ ضروریہ پوری ہونے کے بعد اس پر سال گزر جائے تو اس کی زکاۃ واجب ہوگی۔ اور اگر بقیہ مال نصابِ زکاۃ سے کم بچ جائے تو زکاۃ واجب نہیں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200698

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے