بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 جمادى الاخرى 1441ھ- 23 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

مقتدی سے تکبیراتِ انتقال کا چھوٹ جانا


سوال

کیا مقتدی کے لیے تکبیراتِ انتقال کا زبان سے ادا کرنا ضروری ہے یا اس کے بغیر نماز ہوجائے گی؟

جواب

تکبیراتِ انتقال : یعنی ایک رُکن سے دوسرے رُکن کی طرف منتقل ہونے کی تکبیرات، جس طرح امام کے لیے بہ آوازِ بلند کہنا سنت ہے، اسی طرح مقتدیوں کے لیے زبان سے آہستہ کہنا سنت ہے، لہذا مقتدیوں کو بھی امام کی تکبیر  کے بعد تکبیراتِ انتقال آہستہ کہہ کر دوسرے رکن میں منتقل ہوناچاہیے، اس لیے جان بوجھ کر ان تکبیرات کا ترک کرنادرست نہیں۔ البتہ اگر کوئی مقتدی کسی وجہ سے نہ کہہ سکا، تو اس کی نماز صحیح ہوجائے گی۔فتاوی شامی میں ہے:

"(وجهر الإمام بالتكبير) بقدر حاجته للإعلام بالدخول والانتقال، وكذا بالتسميع والسلام، وأما المؤتم والمنفرد فيسمع نفسه".(1/475)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200766

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے