بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مقتدی سجدہ تلاوت نا کرے تو اس کے لیے حکم


سوال

اگر مقتدی سجدہ تلاوت نا کرے تو اس کے لیے کیا حکم ہے?

جواب

امام جب سجدہ تلاوت کرے تواس کے ساتھ مقتدی پر سجدہ کرنا بھی واجب ہے، البتہ اگر امام کے سجدے کے دوران مقتدی سجدے میں نہ جائے اور نماز ختم ہوجائے تو اس کی نماز ہو جائے گی، البتہ جان کر سجدہ چھوڑنے کی وجہ سے گناہ گار ہوگا، اس پر توبہ و استغفار کرے۔

"الدر المختار مع رد المحتار"میں ہے:

"و يأثم بتأخيرها، و يقضيها مادام في حرمة الصلاة، ولو بعد السلام".

و في الرد: "(ويأثم بتأخيرها ...الخ)؛ لأنها وجبت بما هو من أفعال الصلاة، وهو القراءة و صارت من أجزائها، فوجب أدائها مضيقاً". (شامي، كتاب الصلاة، باب سجود التلاوة،٢/١١٠، ط:سعيد) فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144102200066

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے