بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ربیع الاول 1442ھ- 24 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

مغرب کی نماز کب تک پڑھی جاسکتی ہے؟


سوال

ہمارے علاقے میں آج کل عشاء کی اذان کا وقت 6:32 ہے، اگر کسی وجہ سے مغرب کی نماز میں تاخیر ہوجائے تو عشاء کی اذان کا ٹائم داخل ہونے سے پہلے مغرب پڑھ سکتے ہیں؟ اور یہ نماز ادا تصور ہوگی یا قضا؟

جواب

مغرب کی نماز جلدی یعنی سورج غروب ہوتے ہی فوراً پڑھنا افضل ہے، اور بلاعذر تاخیر کرنا مکروہ ہے، البتہ وقت ختم ہونے (شفقِ ابیض) سے پہلے پہلے پڑھنے سے نماز ادا شمار ہوگی۔ اوقاتِ نماز کے نقشوں میں (عموماً) عشاء کے وقت کی ابتدا شفقِ ابیض کے مطابق ہی درج ہوتی ہے، اور جب تک عشاء کا وقت شروع نہ ہو، مغرب کا وقت باقی رہتاہے، لہٰذا اگر کسی عذر کی وجہ سے مغرب کی نماز تاخیر سے پڑھی، لیکن عشاء کا وقت داخل ہونے سے پہلے پڑھ لی تو یہ ادا کہلائے گی، نہ کہ قضا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200097

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں