بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

معروف کرایہ میں کمی کرکے ایڈوانس بڑھانا اور پھر آگے کرایہ پر دینا


سوال

میں نے 1لاکھ ایڈوانس دے کر دوکان 26000 کرائے پرلی، لیکن جس سے لی ہے اس نے وہی دوکان 7 لاکھ ایڈوانس دے کر کرائے   پرلی اور وہ اصل مالک کو  8000 کرایہ دے رہا ہے، کیا اس طرح کسی سے دوکان کرائے  پر لے کر زیادہ کرائے پر دینا جائز ہے؟ کیوں کہ اس نے 7 لاکھ ایڈوانس دیا ہے۔

جواب

ایڈوانس کی رقم میں اضافہ کرکے کرایہ معروف  میں کمی کرنا، خواہ  معاملہ کرنے والوں کی آپس کی رضامندی سے ہو، شرعاً جائز نہیں ؛ لہٰذا پہلے کرایہ دار نے مالک سے جو معاملہ کیا ہے شرعاً درست نہیں ہے،  ایسے معاملے کو ختم کرنا چاہیے،  نئے سرے سے شرعی طریقے سے معاملہ کیا جائے ۔

حاشية رد المحتار على الدر المختار (5/ 166):

’’لايحل له أن ينتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن؛ لأنه أذن له في الربا؛ لأنه يستوفي دينه كاملاً فتبقى له المنفعة فضلاً؛ فتكون رباً، وهذا أمر عظيم.  قلت: وهذا مخالف لعامة المعتبرات من أنه يحل بالإذن إلا أن يحمل على الديانة، وما في المعتبرات على الحكم. ثم رأيت في جواهر الفتاوى: إذا كان مشروطاً صار قرضاً فيه منفعة وهو رباً، وإلا فلا بأس به ا هـ ما في المنح ملخصاً‘‘. 

’’وَالْغالِبُ مِنْ اَحْوَالِ النَّاسِ اَنَّهَمْ اِنَّمَا یُرِیْدُونَ عِنْدَ الْدَفْعِ اَلاِنْتِفَاعَ وَلَولَاه لَمَا اَعْطَاه الْدَّرَاهمَ وَهذا بِمَنْزِلَةِ الْشَرْطِ؛ لِأَنَّ الْمَعْرُوفَ کَالْمَشْرُوطِ وَهوَ یُعِیْنُ الْمَنْعَ‘‘. (الدر المختار مع ردالمحتار، ج۵/ ص۳۱۱)

باقی آپ نے جو سوال کیا ہے کہ  کرایہ دار کسی دوسرے شخص کو آگے کرایہ پر دیتا ہے تو  شرعاً اس معاملے  کے جائز ہونے کے لیے دو شرطیں ہیں:

(1) وہ کسی ایسے شخص کو دکان کرایہ پر نہیں دے سکتا جس کے کام سے دکان میں نقصان ہو۔

(2) دکان کا کرایہ، اصل کرایہ سے زیادہ نہ لے، ورنہ زیادتی اس کے لیے حلال نہیں ہوگی۔

ہاں دو صورتوں میں وہ پہلے کرایہ سے زیادہ پر بھی آگے کرایہ پر دے سکتا ہے :

(1) دوسرا کرایہ پہلے کی جنس میں سے نہ ہو، یعنی پہلے کرایہ روپے میں ہو تو یہ آگے پیسے کے بجائے کسی اور چیز پر کرایہ مقرر کرے۔

(2) کرایہ دار نے اس کرایہ کی دکان میں کچھ اضافی کام (مثلاً ٹائئلز وغیرہ لگوائے ہوں یا اس میں دیگر تعمیراتی کام) کرایا ہو، تو ایسی صورت میں وہ پہلے کرایہ سے زیادہ پر بھی دوسرے کو کرایہ پر دے سکتا ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 27):
"(تصح) (إجارة حانوت) أي دكان ودار بلا بيان ما يعمل فيها)؛ لصرفه للمتعارف (و) بلا بيان (من يسكنها)، فله أن يسكنها غيره بإجارة وغيرها، كما سيجيء (وله أن يعمل فيهما) أي الحانوت والدار (كل ما أراد) فيتد ويربط دوابه ويكسر حطبه ويستنجي بجداره ويتخذ بالوعة إن لم تضر ويطحن برحى اليد وإن به ضر به يفتى قنية (غير أنه لا يسكن) بالبناء للفاعل أو المفعول (حدادا أو قصارا أو طحانا من غير رضا المالك أو اشتراطه) ذلك (في) عقد (الإجارة) ؛ لأنه يوهن البناء فيتوقف على الرضا.
(وإن اختلفا في الاشتراط فالقول للمؤجر) كما لو أنكر أصل العقد (وإن أقاما البينة فالبينة بينة المستأجر) لإثباتها الزيادة، خلاصة.

وفيها: استأجر للقصارة فله الحدادة إن اتحد ضررهما، ولو فعل ما ليس له لزمه الأجر، وإن انهدم به البناء ضمنه ولا أجر؛ لأنهما لايجتمعان. (وله السكنى بنفسه وإسكان غيره بإجارة وغيرها) وكذا كل ما لا يختلف بالمستعمل  بطل التقييد؛ لأنه غير مفيد، بخلاف ما يختلف به كما سيجيء، ولو آجر بأكثر تصدق بالفضل إلا في مسألتين: إذا آجرها بخلاف الجنس أو أصلح فيها شيئاً.

(قوله: بخلاف الجنس) أي جنس ما استأجر به وكذا إذا آجر مع ما استأجر شيئا من ماله يجوز أن تعقد عليه الإجارة فإنه تطيب له الزيادة، كما في الخلاصة. (قوله: أو أصلح فيها شيئا) بأن جصصها أو فعل فيها مسناة وكذا كل عمل قائم؛ لأن الزيادة بمقابلة ما زاد من عنده حملاً لأمره على الصلاح، كما في المبسوط. والكنس ليس بإصلاح وإن كرى النهر قال الخصاف تطيب وقال أبو علي النسفي: أصحابنا مترددون وبرفع التراب لاتطيب وإن تيسرت الزراعة ولو استأجر بيتين صفقة واحدة وزاد في أحدهما يؤجرهما بأكثر ولو صفقتين فلا خلاصة ملخصاً". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201506

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے