بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مطلقہ سے عدت کے اندر نکاح کرنے کا حکم


سوال

اگر کسی نے مطلقہ عورت کےساتھ عدت کے اندر نکاح کردیا تو کیا یہ نکاح صحیح ہے یا باطل؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی  عورت سے عدت میں  نکاح کر لیتا ہے اور اسے معلوم ہے کہ وہ عورت عدت میں ہے اورعدت میں نکاح کرنا حرام ہے تو اس صورت میں اس شخص کا اس عورت کے ساتھ نکاح باطل  ہے؛ کیوں کہ عدت میں نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا، ایسی صورت میں صدقِ دل سے توبہ واستغفار بھی لازم ہے اورعورت کو پہلی عدت کے بقیہ ایام پورے کرنے ہوںگے۔ اس کے بعد نکاح کرسکتی ہے۔

البتہ اگر کسی کو شبہ ہوگیا اور وہ یہ سمجھا کہ مذکورہ عورت سے نکاح جائز ہے تو اس صورت میں نکاح فاسد ہوگا، اس میں بھی قربت حرام ہے اور اس نکاح کو فو راً ختم کرنا ضروری ہے۔ جس کی صورت یہ ہے کہ شوہر فسخ کے الفاظ کہہ دے  کہ میں یہ عقد فسخ کرتا ہوں  تو یہ عقد ختم ہو جائے گا۔ اب وہ ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوں گے۔ اس صورت میں اگر اس نکاح فاسد کے بعد وطی ہوگئی تھی تو عورت عدت کے تین حیض گزارے گی ورنہ صرف پہلی عدت کے بقیہ ایام پورے کرے گی ۔ اس کے بعد نکاح کرسکے گی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 132):
"أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لايوجب العدة إن علم أنها للغير؛ لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلاً". 

الفتاوى الهندية (1/ 526):
"لو كان النكاح فاسداً ففرق القاضي إن فرق قبل الدخول لاتجب العدة، وكذا لو فرق بعد الخلوة، وإن فرق بعد الدخول كان عليها الاعتداد من وقت التفريق، وكذا لو كانت الفرقة بغير قضاء، كذا في الظهيرية".
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201222

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے