بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1441ھ- 07 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

چلتے ہوئے کلینک میں شراکت داری کی ایک ناجائز اور متبادل جائز صورت


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ:

ایک شخص چھوٹا سا کلینک چلاتا ہے، پٹی کرانا، انجکشن لگانا  اور اس طرح کی ابتدائی طبی سہولت دیتا ہے، اور روزانہ ہزار سے پندرہ سو کمالیتاہے، کلینک میں کرسی ، ٹیبل ، بیڈ اور کچھ طبی چیزیں رکھی ہوئی ہیں، دوکان کی مالیت کے علاوہ ان سب چیزوں کی کل مالیت تقریباً چالیس ہزار روپے تک ہوگی۔ دوسری طرف یہ شخص بہت زیادہ مقروض ہے، اب دوسرا شخص اس کو کہتا ہے کہ میں آپ کو چارلاکھ روپے مضاربت کے طور پر دوں گا، اس سے تم اپنے قرضے ادا کرلوگے، اور کلینک سے جو بھی نفع ہوگا وہ ہم دونوں کے درمیان آدھوں آدھ تقسیم ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا مذکور طریقے سے معاملہ کرنا شرعاً درست ہوگا ؟ اگر بالفرض یہ درست نہ ہو تو اس کی متبادل صورت کیا ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سوال میں ذکر کردہ صورت شرعی مضاربت یا شرکت نہیں، لہٰذا اس کے مطابق معاملہ کرنا اور نفع لینا شرعاً جائز نہیں ہے۔

اس کی متبادل صورت یہ ہے کہ سب سے پہلے کلینک کے سرمایہ کی مکمل مقدار معلوم کی جائے، پھر اگر دوسرا شخص شریک ہونا چاہے تو وہ کلینک کے سامان کا آدھا حصہ مالک سے خرید لے، اس طرح دونوں کلینک کی ہر چیز میں نصف نصف حصہ دار بن جائیں اور پھر نقد سرمایہ بھی مساوی طور پر لگائیں اور پھر نفع اور نقصان میں دونوں شریک ہوکر کاروبار کریں، اگر نصف نصف کے بجائے کمی بیشی کے ساتھ سرمایہ کاری کی جائے تب بھی جائز ہے۔

نیز نقصان کی صورت میں نقصان کی تلافی سب سے پہلے منافع سے کی جائے گی اور اگر نقصان منافع سے زائد ہو تو پھر ہر فریق اپنے اپنے سرمایہ کے مطابق نقصان کا ذمہ دار ہوگا۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"منها: (شرائط جواز الشركة) أن يكون الربح معلوم القدر ... وأن يكون جزءً شائعًا في الجملة لا معينًا ... أما الشركة بالأموال فلها شروط، منها أن يكون رأس المال من الأثمان المطلقة ... وهي الدراهم والدنانير عنانًا كانت الشركة أو مفاوضة ... ولو كان من أحدهما دراهم ومن الآخر عروض فالحيلة في جوازه أن يبيع كل واحد منها نصف ماله بنصف دراهم صاحبه ويتقابضا ويخلطا جميعًا حتى تصير الدراهم بينهما والعروض بينهما ثم يعقدان عليهما عقد الشركة فيجوز". (بدائع الصنائع: 6/59، ط: سعيد)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"وأما شرط جوازها فكون رأس المال عينًا حاضرًا أو غائبًا عن مجلس العقد لكن مشارًا إليه والمساواة في رأس المال ليست بشرط ويجوز التفاضل في الربح مع تساويهما في رأس المال كذا في محيط السرخسي".

وفيه أيضًا:

"لو كان المال منهما في شركة العنان والعمل على أحدهما إن شرطا الربح على قدر رءوس أموالهما جاز ويكون ربحه له ووضعيته عليه وإن شرطا الربح للعامل أكثر من رأس ماله لم يصح الشرط ويكون مال الدافع عند العامل بضاعة ولكل واحد منهما ربح ماله، كذا في السراجية، ولو شرطا العمل عليهما جميعا صحت الشركة وإن قل رأس مال أحدهما وكثر رأس مال الآخر واشترطا الربح بينهما على السواء أو على التفاضل فإن الربح بينهما على الشرط والوضيعة أبدًا على قدر رءوس أموالهما، كذا في السراج الوهاج".

وفيه أيضًا:

"فإن عملا وربحا فالربح على ما شرطا وإن خسرا فالخسران على قدر رأس مالهما، كذا في محيط السرخسي". (319، 320، كتاب الشركة، الباب الثالث في شركة العنان، ط: ماجديه كوئته) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144012200881

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں