بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 ربیع الثانی 1441ھ- 05 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مصنوعی پلکوں کا حکم


سوال

کیا مصنوعی پلکیں لگانا حلال ہے جب کہ وہ بال مستقل بھی نہیں ہوں گے، بلکہ عارضی ہوں گے؟

جواب

مصنوعی پلکیں لگانے کا حکم یہ ہے کہ اگر یہ بال انسان کے ہوں تو ان کا لگانا گناہِ کبیرہ ہے، اور انسانی بال لگوانے والوں  پر حدیث میں لعنت وارد ہوئی ہے۔اور  اگر مصنوعی پلکیں انسان یا خنزیر  کے نہ ہوں تو ان کا لگوانا جائز ہے(بشرطیکہ ان مصنوعی پلکوں سے کسی موقع کا دھوکا یا خلافِ حقیقت صورت کا اظہار مقصود نہ ہو)۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201104

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے