بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 صفر 1442ھ- 24 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

مصارفِ زکاۃ


سوال

1-  زکاۃ کے مصارف کون کون ہیں؟

2- کیا سگے بھائی کو زکاۃ دے سکتے ہیں؟ 

3- قریبی رشتہ داروں میں ماموں، خالہ، پھوپھی چاچا کو زکاۃ دے سکتے ہیں؟

جواب

1- زکاۃ  کے مصارف سات ہیں:  فقیر، مسکین، عامل ، رقاب، غارم، فی سبیل اللہ اور ابن السبیل۔

فقیر وہ شخص ہے جس کے پاس کچھ مال ہے، مگر اتنا نہیں کہ نصاب کو پہنچ جائے۔

مسکین وہ شخص ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو، یہاں تک کہ وہ کھانے اور بدن چھپانے کے لیے بھی لوگوں سے سوال کا محتاج ہو۔

عامل وہ ہے جسے بادشاہِ اسلام نے زکاۃ اور عشر وصول کرنے کے لیے مقرر کیا ہو، اس کو بھی زکاۃ دی جا سکتی ہے۔

رِقاب سے مراد ہے غلامی سے گردن رہا کرانا، لیکن اب نہ غلام ہیں اور نہ اس مدّ میں اس رقم کے صرف کرنے کی نوبت آتی ہے۔

غارم سے مراد مَدیون (مقروض) ہے یعنی اس پر اتنا قرض ہو کہ اسے نکالنے کے بعد نصاب باقی نہ رہے۔

فی سبیل اللہ کے معنی ہیں راہِ خدا میں خرچ کرنا، اس کی چند صورتیں ہیں مثلاً کوئی شخص محتاج ہے کہ جہاد میں جانا چاہتا ہے اور اس کے پاس رقم نہیں تو اس کو  زکاۃ دے سکتے ہیں۔

ابن السبیل سے مراد مسافر ہے، مسافر کے پاس اگر مال ختم ہو جائے تو اس کو بھی زکاۃ  کی رقم دی جا سکتی ہے اگرچہ اس کے پاس اس کے اپنے وطن میں مال موجود ہو۔

2- سگے بھائی بھی اگر صاحبِ نصاب نہیں ہیں  تو ان کو زکاۃ دی جا سکتی ہے، (بشرطیکہ سید/ہاشمی نہ ہوں)۔

3- قریبی رشتہ دار میں ماموں، خالہ، پھوپھی، چاچا اگر صاحبِ نصاب نہیں ہیں تو ان کو زکاۃ دی جا سکتی ہے، یعنی اگر  اُن کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی (تقریباً ۶۱۲/ گرام ۳۶۰/ ملی گرام) یا ساڑھے سات تولہ سونا (تقریباً ۸۷/ گرام ۴۸۰/ ملی گرام) یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے بقدر نقد رقم یا کچھ نقد رقم کے ساتھ اتنا سونا یا اتنی چاندی نہیں ہے جس کی قیمت چاندی کے نصاب کو پہنچ جائے ، اسی طرح ضرورت اصلیہ سے زائد اتنا سامان بھی نہیں ہے ، جس کی مجموعی قیمت چاندی کے نصاب کو پہنچ جائے ، تو ایسی صورت میں ان کو زکاۃ دی جا سکتی ہے، (بشرطیکہ وہ سید/ہاشمی نہ ہوں)۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200809

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں