بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 جمادى الاخرى 1441ھ- 19 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

نماز، جنازہ اور تلاوت میں ہنسنا


سوال

دورانِ نماز یا جنازہ یا دورانِ تلاوتِ قرآن ہنسنا  کتنا بڑا گناہ ہے؟

جواب

نماز یا کسی بھی عبادت میں اس عبادت کی توہین کرنے کی نیت سے ہنسنا انتہائی خطرناک ہے، اور اگر توہین کے بغیر ویسے ہی ہنسے تو بھی عبادت کی روح جاتی رہتی ہے، اور ہنسنا اختیاری ہو تو ثواب کے بجائے گناہ ملتا ہے، نماز کے دوران اگر قہقہہ لگا کر ہنسے تو نماز کے ساتھ وضو بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ اور اتنی آواز میں ہنسے کہ خود کو آواز  آئے تو نماز فاسد ہوجاتی ہے، وضو باقی رہتاہے۔ حدیثِ مبارک  میں آتا ہے کہ  رسول اللہ ﷺ نماز  پڑھارہے تھے، اسی اَثنا  میں ایک نابینا صحابی تشریف لائے اور قریب ایک کنویں میں گرگئے، جس پر بعض نماز پڑھنے والے لوگوں کو بلند آواز سے ہنسی آگئی،  نماز کے بعد آپ ﷺ نے ناراضی  کا اظہار فرمایا اور کہا کہ تم میں سے جو بھی ہنسا تھا وہ اپنا وضو اور نماز دونوں دوبارہ ادا کرے“ ۔  لہذا عبادت کو عبادت سمجھ کر انتہائی سنجیدگی سے ادا کرنا چاہیے۔

نمازِ جنازہ اور تلاوت کے دوران قہقہہ نکل جانے سے وضو اگرچے نہیں ٹوٹے گا، تاہم اگر کبھی  (نماز، جنازہ یا تلاوت کے دوران) ہنسی نکل جائے تو استغفار کرلینا چاہیے؛ کیوں کہ علی الاقل یہ عبادت کے دوران غفلت کی علامت ہے۔

مصنف عبد الرزاق الصنعاني (2/ 376):
"عن معمر، عن قتادة، عن أبي العالية الرياحي: أن رجلًا أعمى تردى في بئر والنبي صلى الله عليه وسلم يصلي بأصحابه، فضحك بعض من كان يصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم، فأمر النبي صلى الله عليه وسلم: «من ضحك منكم فليعد الصلاة»".
سنن الدارقطني (1/ 307):
"عن منصور الواسطي هو ابن زاذان، عن ابن سيرين، عن معبد الجهني، قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي الغداة، فجاء رجل أعمى وقريب من مصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بئر على رأسها جلة، فجاء الأعمى يمشي حتى وقع فيها، فضحك بعض القوم وهم في الصلاة، فقال النبي صلى الله عليه وسلم بعدما قضى الصلاة: «من ضحك منكم فليعد الوضوء وليعد الصلاة»". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200332

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے