بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 محرم 1442ھ- 19 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

مشترکہ کمائی کی صورت میں قربانی کا حکم


سوال

گزارش  یہ ہے کے ہمارے معاشرے میں اکثر جوائنٹ فیملی رہائش ہے۔ ایک والد صاحب 5 بیٹے شادی شدہ ایک ساتھ رہتے ہیں، سارے بیٹے کام کرتے ہیں، کوئی ملازمت کرتا ہے کوئی کھیتی باڑی کرتا ہے کوئی دوکان چلاتا ہے ،ایک دو زیادہ آمدن لاتے ہیں، ایک دو کم لاتے ہیں، مقصد سارے ایک ساتھ رہتے ہیں۔ کھانا بھی ایک ساتھ پکاتے ہیں، گھر بھی ساتھ ہے۔اب قربانی کس پر واجب ہے؟ باپ پر؟ یا بیٹوں پر ؟ یا صرف باپ؟ یا تمام باپ بیٹو ں پر؟

جواب

اگر تمام بھائی اپنی آمدنی لاکر والد کو مالک بناکر دے دیتے ہیں اور بیٹوں کی ملکیت میں نصاب یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی موجودہ قیمت کے برابرنقد رقم، سونا چاندی یاضروریات سے زائد سامان وغیرہ نہیں ہے ، تو اس صورت میں بیٹوں پر قربانی واجب نہیں۔اگرصرف  والد کی ملکیت میں نصاب کے برابر رقم موجود ہے تو ان پر قربانی واجب ہے۔اور اگر بھائیوں میں سے کوئی صاحبِ نصاب ہے، یعنی جس کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر رقم یا زائد سامان موجود ہے تو اس پر بھی قربانی واجب ہے۔حاصل یہ ہے کہ جس جس شخص کے پاس نصاب کے برابر نقد رقم یا ضروریات اصلیہ سے زائد سامان موجود ہو تو اس پر قربانی واجب ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201815

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں