بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مسلم حکمرانوں کے ساتھ نفاذ شریعت اور ظلم سے توبہ تائب کرنے کے لیے مسلح جدوجہد جائز ہے یا نہیں؟


سوال

ایک ایسا مسلمان ملک جس میں جمہوری نظام نافذ ہو اور وہاں کے علماء اس نظام کو اسلامی جمہوری مانتے ہوں اس کے حکمران اور فوج کفار کے صف اول کے اتحادی بھی ہوں اور ان کے ہاتھ اپنے اور پڑوسی ملک کے مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوں تو ایسے حکمرانوں کے ساتھ نفاذ شریعت اور ظلم سے توبہ تاٰئب کرنے کے لیے مسلح جدوجہد جاٰٰٰٰٰٰٰٰئز ہے یا نہیں؟ 

 

جواب

ذکر کردہ صورتِ حال میں مسلح جدوجہدجائز نہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143810200006

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے