بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 جمادى الاخرى 1441ھ- 23 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

مسلسل مذی کے نکلنے کی صورت میں وضو کا کیا حکم ہوگا؟


سوال

 زید کہتا ہےکہ مجھ سے ہروقت مذی نکلتی ہے، جس کی وجہ سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور کپڑے بھی ناپاک ہو جاتے ہیں۔ اس لیے وہ وضو کرنے کے بعد عضوِ خاص کے سوراخ کو سلوشن ٹیپ  کے ذریعے بند کرتا ہے ، جس کے بعد مذی سوراخ سے باہرنہیں نکلتی تو صورتِ مسئولہ میں:

1-کیا یہ شخص معذورین کے حکم میں داخل ہوگا؟

2-اور وضو کب تک باقی رہے گا؟

3-  ایسے شخص کا امام بنناکیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ شرعاً "معذور " ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جس کو وضو توڑنے کے اسباب میں سے کوئی سبب (مثلاً ریح،خون ، پیشاب کا قطرہ، مذی، لکوریا وغیرہ) مسلسل پیش آتا رہتا ہو اور ایک نماز کے مکمل وقت میں اس کو اتنا وقت بھی نہ ملتا ہو کہ وہ با وضو ہو کر پاک کپڑوں میں وقتی فرض نماز ادا کر سکے۔ کسی بھی ایک نماز کا مکمل وقت اس طرح گزرنے کی صورت میں یہ شخص شرعی معذور بن جائے گا، اور جب تک کسی نماز کا مکمل وقت اس عذر کے بغیر نہ گزر جائے (یعنی اس کے بعد خواہ نماز کے پورے وقت میں ایک مرتبہ بھی یہ عذر پایا جائے) وہ شرعی معذور رہے گا۔ 

اور اس کا حکم یہ ہے کہ وہ نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد وضو کرلے اور دوسری نماز کا وقت داخل ہونے تک جتنی نمازیں تلاوت و دیگر عبادات چاہے اس وضو سے کرے، بشرطیکہ وضو توڑنے کے دیگر اسباب میں سے کوئی اور سبب پیش نہ آئے۔

فتاوی شامی میں ہے:

" و صاحب عذر من به سلس بول لايمكنه إمساكه إو استطلاق بطن أو انفلات ريح ... إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة بأن لايجد في جميع وقتها زمناً يتوضؤ و يصلي فيه خالياً عن الحدث ولو حكماً ؛ لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم". (باب الحيض: مطلب في أحكام المعذور ٣٠٥/١ ط سعيد)

1۔ صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق مذکورہ شخص کو طہارتِ کاملہ کے ساتھ اتنا وقت نہیں ملتا کہ وہ مذی نکلے بغیر وقتی فرض ادا کرسکے تو وہ شرعا معذور شمار ہوگا، اور حکم بالا کے مطابق اس کے لیے عبادات کرنا جائز ہوگا، بصورتِ دیگر جائز نہ ہوگا۔

2۔ معذور شرعی کا وضو نماز کے وقت ختم ہونے تک قائم شمار کیا جاتا ہے۔

3۔ صورتِِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص کی مذی مسلسل خارج ہوتی رہتی ہو اور اتنا وقت بھی نہ ملتا ہو کہ وہ با وضو ہو کر مذی خارج ہوئے بغیر وقتی فرض ادا کر سکیں تو وہ معذورِ شرعی ہیں اور وہ صحت مند افراد کی امامت کے اہل نہیں، لہذا جب تک یہ عذر برقرار ہو امامت نہ کرائیں، بصورتِ دیگر ان کے پیچھے صحت مند مقتدیوں کی نماز نہیں ہوگی۔

الدر مع الرد میں ہے: "ولا طاهر بمعذور". (باب الإمامة، ١/ ٥٧٨، ط: سعيد) 

نیز سلوشن ٹیپ اگر عضو کے ارد گرد گولائی میں لپیٹا جائے یا کوئی ایسی تدبیر کی جائے جس سے قطرے کا خروج نہ ہو اور نالی بند رہے تو اس صورت میں مذی کے عدمِ خروج کی وجہ سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔ البتہ اگر سلوشن ٹیپ محض عضو کے سوراخ پر لگایا جائے  اور مذی اندر سے خارج ہوکر  ٹیپ پرلگے  تو اس صورت میں وضو برقرار نہیں رہے گا، اگرچہ مذی ٹیپ کے باہر کی جانب ظاہر نہ ہو ، جیسا کہ فتاوی تتارخانیہ میں ہے:

"وإذا احتشي إحليله بقطنة خوفًا من خروج البول و لو لا القطنة لخرج منه البول فلا بأس به، و لاينتقض وضوؤه حتی يظهر البول علي القطنة و يخرج منه، و إن ابتل الطرف الداخل من القطنة و لم ينفذ أو نفذ و لكن الحشو متسفل عن رأس الإحليل فهذا لايعطي له حكم الخروج حتى لاينتقض وضوؤه، فإن كان الحشو عاليًا عن رأس الإحليل أو محاذيًا برأس الإحليل إن نزل يعطى له حكم البروز، و إن كانت يابسةً لاتثبت لها حكم البروز‘‘. ( كتاب الطهارة، الفصل: ما يجب الوضوء، ١/ ٢٣٩، ط: مكتبة زكريا ديوبند)  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010201199

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے