بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 شعبان 1441ھ- 31 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے چندہ کی رقم پر زکات


سوال

مساجدکےخزانہ میں کافی رقم رکھی ہوتی ہے، اور کئی سال تک استعمال بھی نہیں ہوتی، بلکہ چندہ کی وجہ سے بڑھتی ہی رہتی ہے،  کیامساجد کی اس رقم پر زکات واجب ہے؟

جواب

جو رقم  چندہ یا عطیہ کے طور پر کسی کارِ خیر میں دی جاتی ہے وہ چندہ یا عطیہ  دینے والوں کی ملکیت سے خارج ہوجاتی ہے اور اس کی حیثیت مالِ وقف کی ہوجاتی ہے ؛ اس  لیے اس پر زکات واجب نہیں ہوتی، زکات شخصی ملکیت پر واجب ہوتی ہے۔(زکاۃ کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا ص:143) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200653

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے