بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں موجود لوگوں کو سلام کرنا


سوال

مسجد میں داخل ہوتے وقت جو لوگ پہلے سے موجود ہوں اُن کو سلام کرنا کیسا ہے؟ 

جواب

مسجد میں داخل ہونے کے بعد ان لوگوں کو سلام کرنا جائز ہے جو لوگ کسی عبادت میں مشغول نہ ہوں، بشرطیکہ اتنی آواز سے ہو کہ عبادت میں مشغول لوگوں کی عبادت میں خلل واقع نہ ہو۔

الفتاوى الهندية (5/ 325):

'' السلام تحية الزائرين، والذين جلسوا في المسجد للقراءة والتسبيح أو لانتظار الصلاة ما جلسوا فيه لدخول الزائرين عليهم، فليس هذا أوان السلام فلا يسلم عليهم، ولهذا قالوا: لو سلم عليهم الداخل وسعهم أن لا يجيبوه، كذا في القنية. يكره السلام عند قراءة القرآن جهراً، وكذا عند مذاكرة العلم، وعند الأذان والإقامة، والصحيح أنه لا يرد في هذه المواضع أيضاً، كذا في الغياثية.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 415):

''وإذا جلس القاضي ناحية من المسجد للحكم لا يسلم على الخصوم، ولا يسلم عليه؛ لأنه جلس للحكم والسلام تحية الزائرين''. فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200807

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے