بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 صفر 1442ھ- 25 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں اجتماعی جہری ذکر کا اہتمام


سوال

ہمارے یہاں ایک مفتی صاحب اذان فجرکے بعد سے جماعت کے 10/15 منٹ پہلے تک مسجد میں بتیاں بجھاکر باجماعت بہت بلند آواز سے ذکر کرتے ہیں۔ اور خود مفتی صاحب لاؤوڈ اسپیکر کے ذریعہ اس کا لیڈ دیتے ہیں، ہمیں بھی اس میں شریک ہونے کو کہاگیا، لیکن دوسرے بعض علماء کہتے ہیں کہ: یہ طریقہ صحیح نہیں، تو اس صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

جواب

مسجد میں اجتماعی ذکر کے حلقوں کا اہتمام  پسندیدہ اور قابلِ تائید عمل ہے، لیکن اس کے لیے کچھ شرائط ہیں:

 1: ریا ونمود کا خوف نہ ہو۔ 2: اصرار والتزام نہ ہو، یعنی شرکت نہ کرنے والوں کو اصرار کرکے شرکت پر آمادہ نہ کیا جائے اور شریک نہ ہونے والوں پر طعن وتشنیع نہ کی جائے۔ 3: آواز شرکاءِ حلقہ تک ہی محدودو رکھی جائے،مسجد میں  ذکر  یا کوئی بھی ایسا عمل اتنی  آواز سے کرنا جس سے دیگر نمازیوں یا اہل محلہ کو تشویش ہوتی ہو قطعا جائز نہیں ہے،   ردالمحتار میں ہے: "اجمع العلماء سلفا وخلفا علی استحباب ذکر الجماعۃ فی المساجد وغیرھا الا ان یشوش جھرھم علی نائم او مصل او قاری"  الخ (ج:۱، ص: ۶۶۰)

 اس لیے حکمت کے ساتھ اور کسی قسم کا انتشار پیدا کیے بغیر مفتی صاحب کو مسئلہ بتادیں۔ اگر سائل خود  باقاعدہ عالم ہے تو خود ہی حکمت کے ساتھ مسئلہ بتادے، اور اگر سائل باقاعدہ عالم نہیں ہے تو بہتر ہے کہ کسی ایسے عالم کے ذریعے  مسئلہ کی طرف راہ نمائی کروائی جائے جو مذکور مفتی صاحب سے عمر یا مقام میں بڑے ہوں۔ فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 143804200019

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں