بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو القعدة 1441ھ- 08 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

دورانِ سال صاحبِ نصاب نہ رہا تو کیا مستحقِ زکاۃ ہوگا؟


سوال

دوران سال اگر صاحبِ  نصاب نہ رہے تو کیا وہ مستحق زکاۃ بن سکتا ہے؟

جواب

زکاۃ  کا مستحق وہ شخص ہے جس کے پاس حاجتِ  اصلیہ سے زائد اتنا کسی بھی قسم کا مال یا سامان (زیور ، نقدی، مکان، زمین، اسباب ،کتابیں وغیرہ) نہ ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو جائے ، ایسا شخص زکاۃ  لینے پر مجبور ہو تو لے سکتا ہے۔ لہذا جب دورانِ  سال اتنی مالیت بھی نہ ہو تو زکاۃ لینا جائز ہے، مطلقاً صاحبِ نصاب نہ رہنے سے زکاۃ لینا جائز نہیں ہوگا۔ 

" هو فقیر وهو من له أدنی شيءٍ أي دون نصاب أوقدر نصاب غیر نام مستغرق في الحاجة". (الدرالمختار مع الشامیة، باب الصرف ج۲ ص ۳۳۹) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010201230

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں