بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

مسافر امام کے پیچھے مقیم مقتدی کی نیت کا طریقہ


سوال

امام مسافر ہو اور مقتدی مقیم ہو تو مقتدی چار رکعت والی نماز میں نیت کیسے کریں گے،  چار کی کریں گے یا دو کی؟  اور آخری دو رکعت میں مقیم مقتدی قراءت کرے گا یا خاموش کھڑا رہے گا؟

جواب

واضح رہےکہ اگر کوئی شخص جماعت کی نماز میں شامل ہو رہا ہو تو اس کے لیے وقتی فرض کی ادائیگی کی نیت کرنا ضروری ہے، نہ کہ تعدادِ رکعات کی، پس مقیم مقتدی کو چاہیےکہ وہ مسافر کی اقتدا میں صرف وقتی فرض نماز کی نیت کرے،دویاچا رکعت کی تعیین نہ کرے، لہٰذامقیم مقتدی کوامام کے مسافرہونےکا علم ہو یا نہ ہو، دونوں صورتوں میں امام کی اقتدامیں وقتی فرض نماز کی نیت کافی ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وَلَا بُدَّ مِنْ التَّعْيِينِ عِنْدَ النِّيَّةِ) ... (لِفَرْضٍ) أَنَّهُ ظُهْرٌ أَوْ عَصْرٌ ...(وَوَاجِبٍ) أَنَّهُ وِتْرٌ أَوْ نَذْرٌ...(دُونَ) تَعْيِينِ (عَدَدِ رَكَعَاتِهِ) لِحُصُولِهَا ضِمْنًا، فَلَا يَضُرُّ الْخَطَأُ فِي عَدَدِهَا".

(ردالمحتار علی الدرالمختار، كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة  ١/ ٤١٨٤٢٠ط: سعید)

مقیم شخص کامسافر امام کے پیچھے نماز ادا کرنا درست ہے، رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ میں سفر کی حالت میں امامت فرمائی اور نمازِ قصر ادا فرمانے کے بعد وہاں کے مقیمین سے فرمایا کہ ہم مسافر ہیں آپ اپنی بقیہ نماز مکمل کرلیں۔ بہرحال مسافر امام جب اپنی نمازمکمل کرکے سلام پھیرےگا تو مقیم اپنی بقیہ نماز بغیر قراءت کےمکمل کرےگا، اس لیے کہ یہ لاحق کے حکم میں ہے۔

            طحطاوی میں ہے:   

"اقتدى مقيم بمسافر "صح" الاقتداء "فيهما" أي في الوقت وفيما بعد خروجه لأنه صلى الله عليه وسلم صلى بأهل مكة وهو مسافر وقال: "أتموا صلاتكم فإنا قوم سفر" وقعوده فرض أقوى من الأول في حق المقيم ويتم المقيمون منفردين بلا قراءة". (حاشية الطحطاوي علی مراقي الفلاح باب الامامة  ۱/۲۹۲ ط: دارالکتب العلمیة)

                اورفتاوی شامی میں ہے:

"وصح اقتداء المقیم بالمسافر في الوقت، وبعده فإذا قام المقیم إلی الإتمام لایقرأ، ولایسجد للسهو في الأصح؛ لأنه کاللاحق "․  (ردالمحتار علی الدرالمختار، كتاب الصلاة ، باب صلاة المسافر ۲/۱۲۹ط: سعیدفقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144105200049

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں