بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1441ھ- 10 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

مساج سینٹر کی ویب سائٹ بنانا


سوال

 ایک مساج کرنے والی کمپنی کی ویب سائٹ بنانا اور اس کو پروموٹ کرنا کیسا ہے؟  کیا اس کام کی کمائی حلال ہو گی؟ اگر کوئی بے روزگار ہو اور اس کو یہ جاب مل رہی ہو۔ مساج سینٹر پر زیادہ تر لڑکی مرد کے جسم پر مساج کرتی ہے،  لیکن ہمارا کام صرف ان کی ویب سائٹ  کی دیکھ بھال کرنا ہے۔اور اسی کام کی اجرت لینا ہے۔ براہِ مہربانی جلد راہ نمائی فرمائیں!

جواب

شریعت میں اجنبی مرد یا اجنبی لڑکی کو چھونا ناجائز اور حرام ہے۔  اگر چہ یہ مساج سینٹر غیر مسلموں کا ہو  بسا اوقات مسلمان بھی ایسی جگہ مساج کرانے آتے ہیں، نیز غیر مسلموں کو بھی غلط کام کے مواقع فراہم کرنا اور اس میں تعاون کرنا جائز نہیں ہے، اس کام کی ویب سائٹ بنانا اور اس کو پروموٹ کرنا ان کے کام میں تعاون ہے، جس سے ان کے کام کی تشہیر ہوگی اور بہت ممکن ہے کہ ویب سائٹ بنانے والے کی وجہ سے  مسلمان بھی اس کام میں پڑجائیں، نیز  تشہیری مقاصد  کے لیے خواتین کی تصاویر لگائی جائیں تو یہ مستقل ایک گناہ ہے؛ لہذا مسلمان کو اس کام سے بچنا لازم ہے، کوئی اور جائز ملازمت تلاش کریں۔

طبرانی میں بروایت حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان منقول ہے:

’’اپنے سر کو لوہے کے کنگن سے زخمی کرنا بہتر ہے اس بات سے کہ وہ نا محرم خاتون کو چھوئے‘‘۔

"عن معقل بن يسار رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لأن يُطعن في رأس أحدكم بمخيط من حديد خير له من أن يمسّ امرأة لاتحلّ له." رواه الطبراني". (صحيح الجامع 5045)

بخاری شریف کی روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ آنے والی خواتین کا سورہ تحریم کی آیت کے مطابق امتحان لیتے، ( کہ وہ کہیں اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور مقصد سے تو ہجرت کرکے نہیں آئیں) جب وہ امتحان پر پوری اتر آتیں تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہتے کہ میں نے تمہیں زبانی بیعت کرلی ہے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ بخدا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت میں بھی کسی خاتون کو ہاتھ نہیں لگایا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200542

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں