بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

مزدور کو طے شدہ اجرت سے کم دینا / اپنا حق وصول کرنے کے لیے چوری کرنا


سوال

ایک بندے نے کسی دوسرے کے ساتھ پہلے سے اجرت متعین کی، جیسے کہ زید نے عمرو کو کہا: عمرو  تم میری یہ دس بوری اٹھا کے گھر تک پہنچادو تو میں آپ کو فی بوری 100 روپے دوں گا،عمرو نے وہ دس بوری اٹھاکر گھر تک پہنچادی، پھر زید نے عمرو کو  1000 روپے کے بجائے 700 روپے دیے، عمرو  وہ 700 روپے لے کر نکلتے وقت گھر سے کچھ چوری کرکے نکل آیا، کیا یہ صحیح ہے، مسروقہ کے حکم میں داخل ہوگا یا اگر وہ دس درہم سے  زیادہ ہو تو قطعِ  ید کا حکم جاری ہوگا یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب زید اور عمرو کے درمیان  فی بوری گھر پہنچانے پر 100 روپے اجرت طے ہوئی تھی، اور عمرو نے دس بوریاں  گھر تک پہنچادیں تو عمرو 1000 روپے اجرت کا مستحق ہوگیا، اب زید کے لیے عمرو کو 1000 روپے کے بجائے 700 روپے اجرت دینا جائز نہیں ہے، ہاں اگرعمرو اپنی خوشی سے 1000 روپے کے بجائے700 پر راضی ہوجائے تو اس کو اس کااختیار ہے۔

اب جب عمرو کو اس کی اجرت کے 300 روپے کم ملے تو اس کو چاہیے تھا وہ زید ہی سے اس کا مطالبہ کرتا، اور اس سے وہ لینے کی کوشش کرتا، عمرو کا زید سے مطالبہ کیے بغیر ، زید کے گھر سے کوئی چیز اٹھالینا چوری ہے جو کبیرہ گناہ ہے، عمرو  پر وہ چیز زید کو واپس کرنا اور توبہ واستغفار کرنا لازم ہے۔

البتہ اگر عمرو نے زید سے خوب مطالبہ کیا ہو، لیکن زید کسی بھی طرح عمرو کا حق دینے پر رضامند  نہ ہو تو عمرو کو  اپنے حق کے بقدر زید کے مال میں سے وصول کرنے کا حق حاصل ہے، البتہ اپنے حق سے زیادہ وصول کرنا ناجائز اور حرام ہے۔

مذکورہ صورت میں بظاہر چوری کردہ چیز کی قیمت دس درہم سے کم ہے، نیز اس میں شبۂ حق بھی پایا جارہاہے، تاہم  اگر شرعی شرائط کے مطابق  سرقہ ثابت بھی ہوجائے تو اس کی سزا کا اختیار اسلامی حکومت کو ہے، اسی طرح  جرائم پر تعزیراً  سزا دینے کا اختیار بھی ہرکس وناکس کو نہیں ہے، اگر جرائم پر ہر ایک کو سزائیں  دینے کا اختیار ہوتو پورا نظام فساد کا شکار ہوجائے گا۔

       شرح المجلۃ میں ہے:

"لایجوز لأحد  أن یأخذ  مال أحد  بلا سبب شرعي".   (1/264،  مادۃ: 97، ط: رشیدیہ)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4 / 95):
"مطلب يعذر بالعمل بمذهب الغير عند الضرورة.

(قوله: وأطلق الشافعي أخذ خلاف الجنس) أي من النقود أو العروض؛ لأن النقود يجوز أخذها عندنا على ما قررناه آنفًا. قال القهستاني: وفيه إيماء إلى أن له أن يأخذ من خلاف جنسه عند المجانسة في المالية، وهذا أوسع فيجوز الأخذ به وإن لم يكن مذهبنا؛ فإن الإنسان يعذر في العمل به عند الضرورة كما في الزاهدي. اهـ. قلت: وهذا ما قالوا: إنه لا مستند له، لكن رأيت في شرح نظم الكنز للمقدسي من كتاب الحجر. قال: ونقل جد والدي لأمه الجمال الأشقر في شرحه للقدوري أن عدم جواز الأخذ من خلاف الجنس كان في زمانهم لمطاوعتهم في الحقوق. والفتوى اليوم على جواز الأخذ عند القدرة من أي مال كان لا سيما في ديارنا لمداومتهم للعقوق". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200966

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے