بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 شوال 1441ھ- 01 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

مزدوری کے لیے ان لیگل طریقے سے یورپ وغیرہ جانے کا حکم


سوال

آج کل کچھ لوگ مزدوری کے لیے ان لیگل طریقے سے یورپ وغیرہ جاتے ہیں مختلف راستوں سے جان ہتھیلی پہ رکھ کر،  کیا یہ عمل درست ہے؟ اور اس کی آمدنی کی حلت و حرمت کا کیا حکم ہے؟

جواب

اسلامی ممالک میں معاش کے جائز ذرائع میسر ہوتے ہوئے غیر اسلامی ممالک میں صرف روزی کمانے کے لیے جانا پسندیدہ نہیں ہے، اگر اسلامی ممالک میں تلاش کے باوجود ذریعہ معاش نہ ملے، اور غیر اسلامی ملک میں جاکر ایمان و اعمال اور اسلامی تہذیب وآداب کی حفاظت کے ساتھ روزی حاصل کی جائے تو اس کی اجازت ہے۔ تاہم روزی حا صل کرنے کے لیے کوئی ایسا راستہ اختیار کرنا درست نہیں جس سے جان یا عزت خطرے میں پڑجائے ، لیکن اگر مذکورہ طریقہ اختیار کرکے کوئی شخص چلا جائے تو حلال ذریعے سے جو آمدنی حاصل ہو وہ حلال ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200094

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے