بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الثانی 1441ھ- 14 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مردوں کو عورتوں پر فوقیت کیوں ہے؟


سوال

مردوں کارتبہ اللہ تعالیٰ نے زیادہ کیوں رکھاہے؟یاصرف شوہرکوبیوی پرفوقیت حاصل ہے؟کیامردوں کے حقوق زیادہ ہیں یاصرف جائیدادمیں حصہ زیادہ ہے؟

جواب

قرآن کریم کی سورہ نساء کی آیت 34میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں پرمردوں کی فوقیت کاذکرفرمایاہے،مذکورہ آیت کریمہ کے ذیل میں مفتی اعظم پاکستان مفتی محمدشفیع رحمہ اللہ کی تحریرنقل کی جاتی ہے جوآپ کے سوال کاتشفی بخش جواب بھی ہے:

'' سورہ نسآء کے شروع سے یہاں تک بیشتر احکام اور ہدایات عورتوں کے حقوق سے متعلق آتی ہیں، جن میں ان ”الم کو مٹایا گیا ہے جو اسلام سے پہلے پوری دنیا میں اس صنف نازک پر توڑے جاتے تھے، اسلام نے عورتوں کو وہ تمام انسانی حقوق دیئے جو مردوں کو حاصل ہیں، اگر عورتوں کے ذمہ مردوں کی کچھ خدمات عائد کیں تو مردوں پر بھی عورتوں کے حقوق فرض کئے۔

سورہ بقرہ کی آیت میں ارشاد فرمایا: ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف(۲:۸۲۲) یعنی ”عورتوں کے حقوق مردوں کے ذمہ ایسے ہی واجب ہیں جیسے مردوں کے حقوق عورتوں کے ذمہ ہیں ۔‘ اس میں دونوں کے حقوق کی مماثلت کا حکم دے کر اس کی تفصیلات کو عرف کے حوالہ سے فرمایا جاہلیت اور تمام دنیا کی ظالمانہ رسموں کا یکسر خاتمہ کر دیا، ہاں یہ ضروری نہیں کہ دونوں کے حقوق صورت کے اعتبار سے متماثل ہوں، بلکہ عورت پر ایک قسم کے کام لازم ہیں تو اس کے مقابل مرد پر دوسری قسم کے کام ہیں ، عورت امور خانہ داری اور بچوں کی تربیت و حفاظت کی ذمہ دار ہے، تو مردان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے کسب معاش کا ذمہ دار ہے، عورت کے ذمہ مرد کی خدمت و اطاعت ہے تو مرد کے ذمہ اس کا مہر اور نفقہ یعنی شام ضروری اخراجات کا نتظام ہے، غرض اس آیت نے عرتوں کو مردوں کے مماثل حقوق دیدیئے۔

لیکن ایک چیز ایسی بھی ہے جس میں مردوں کو عورتوں پر تفوق اور ایک خالص فضیلت حاصل ہے، اس لئے اس آیت کے آخر میں فرمایا: وللرجال علیھن درجة یعنی مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ فضیلت کا حاصل ہے۔

ان آیات میں اسی درجہ کا بیان قرآن کریم کے حکیمانہ طرز بیان کے ساتھ اس طرح کیا گیا ہے کہ مردوں کی یہ فضیلت اور تفوق خود عورتوں کی مصلحت اور فائدہ کے لئے اور عین مقتضائے حکمت ہے اس میں عورت کی نہ کسر شان ہے نہ اس کا کوئی نقصان ہے۔

ارشاد فرمایا: الرجال قومون علی النسآئ (۵:٤۳) قوام، قیام، قیم عربی زبان میں اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی کام یا نظام کا ذمہ دار اور چلانے والا ہو، اسی لئے اس آیت میں قوام کا ترجمہ عموماً حاکم کیا گیا ہے، یعنی مرد عورتوں پر حاکم ہیں، مراد یہ ہے کہ ہر اجتماعی نظام کے لئے عقلاً اور عرفاً یہ ضروری ہوتا ہے کہ اس کا کوئی سربراہ یا امیر اور حاکم ہوتا ہے کہ اختلاف کے قوت اس کے فیصلہ سے کام چل سکے، جس طرح ملک و سلطنت اور ریاست کے لئے اس کی ضرورت سب کے نزدیک مسلم ہے، اسی طرح قبائلی نظام میں بھی اس کی ضرورت ہمیشہ محسوس کی گئی اور کسی ایک شخص کو قبیلہ کا سردار اور حاکم مانا گیا ہے، اسی طرح اسی عائلی نظام میں جس کو خانہ داری کہا جاتا ہے اس میں بھی ایک امیر اور سربراہ کی ضرورت ہے، عورتوں اور بچوں کے مقابل ہمیں اس کام کے لئے حق تعالی نے مردوں کو منتخب فرمایا کہ ان کی عمی اور عملی قوتیں بہ نسبت عورتوں، بچوں کے زیادہ ہیں اور یہ ایسا بدیہی معاملہ ہے کہ کوئی سمجھدار عورت یا مرد اس کا انکار نہیں کر سکتا۔

خلاصہ یہ ہے کہ سورہ بقرہ کی آیت میں وللرجال علیھن درجة (۲:۸۲۲) فرما کر اور سورہ نسآء کی آیت متذکرہ میں الرجال قومون علی النسآءفرما کر یہ بتلا دیا گیا کہ اگرچہ عورتوں کے حقوق مردوں پر ایسے ہی لازم و واجب ہیں جیسے مردوں کے عورتوں پر ہیں اور دونوں کے حقوق باہم ماثل ہیں، لیکن ایک چیز میں مردوں کو امتیاز حاصل ہے کہ وہ حاکم ہیں ........ اور قرآن کریم کی دوسری آیات میں یہ بھی واضح کر دیا گیا کہ یہ حکومت جو مردوں کی عورتوں پر ہے محض آمریت اور ساتبداد کی حکومت نہیں، بلکہ حاکم یعنی مرد بھیق انون شرع اور مشورہ کا پابند ہے، محض اپنی طبیعت کے تقاضہ سے کوئی کام نہیں کر سکات، اس کو حکم دیا گیا ہے کہ عاشر وھن بالمعروف (۵:۹۱) یعنی عورتوں کے ساتھ معروف طریقہ پر اچھا سلوک کرو ۔

اسی طرح دوسری آیت میں عن تراض منھما وتشاور (۲:۳۳۲) کی تعلیم ہے جس میں اس کی ہدایت کی گئی ہے کہ امور خانہ داری میں بیوی کے مشورہ سے کام کریں، اس تفصیل کے بعد مرد کی حاکمیت عورت کے لئے کسی رنج کا سبب نہیں ہو سکتی، تاہم چونکہ یہ احتمال تھا کہ مردوں کی اس فضیلت اور اپنی محکومیت سے عورتوں پر کوئی ناگوار اثر ہو، اس لءحق تعالی نے اس جگہ صرف حکم بتلانے اور جاری کرنے پر اکتفاء نہیں فرمایا، بلکہ خود ہی اس کی حکمت اور وجہ بھی بتلا دی، ایک وہبی جس میں کسی کے عمل کا دخل نہیں، دوسرے کسی جو عمل کا اثر ہے۔

پہلی وجہ یہ ارشاد فرمائی بما فضل اللہ بعضھم علی بعض، یعنی اللہ تعالی نے دنیا میں خاص حکمت و مصلحت کے تحت ایک کو ایک پر بڑائی دی ہے، کسی کو افضل کسی کو مفضول بنایا ہے، جیسے ایک خاص گھر کو اللہ نے اپنا بیت اللہ اور قبلہ قرار دیدیا، بیت المقدس کو خاص فضیلت دیدی، اسی طرح مردوں کی حاکمیت بھی ایک خدا داد فضیلت ہے جس میں مردوں کی سعی و عمل یا عورتوں کی کوتاہی و بے عملی کا کوئی دخل نہیں ۔

دوسری وجہ کسی اور اختیاری ہے کہ مرد اپنا مال عورتوں پر خرچ کرتے ہیں، مر ادا کرتے ہیں اور ان کی تمام ضروریات کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں ........ ان دو وجہ سے مردوں کو عورتوں پر حاکم بنایا گیا۔.....مردوں کی افضلیت کے بیان کے لئے قرآن حکیم کا عجیب اسلوب:- پہلی وجہ کے بیان میں مختصر طریقہ یہ تھا کہ رجال اور نساء کی طرف ضمیریں عائد کر کے فضلھم علیھن فرما دیا جاتا ، مگر قرآن کریم نے عنوان بدل کر بعضھم علی بعض کے الفاظ اختیار کئے، اس میں یہ حکمت ہے کہ عورتوں اور مردوں کو ایک دوسرے کا بعض اور جزءقرار دے کر اس طرف اشارہ کر دیا کہ اگر کسی چیز میں مردوں کی فوقیت اور افضلیت ثابت بھی ہو جائے تو اس کی ایسی مثال جیسے انسان کا سر اس کے ہاتھ سے افضل یا انسان کا دل اس کے معدہ سے افضل ہے، تو جس طرح سرکا ہاتھ سے افضل ہونا ہاتھ کے مقام اور اہمیت کو کم نہیں کرتا، اسی طرح مرد کا حاکم ہونا عورت کے درجہ کو نہیں گھٹاتا کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کے لئے مثل اعضاءو اجزاء کے ہیں، مرد سر ہے تو عورت بدن۔

اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس عنوان سے اس طرف بھی اشارہ کر دیا گیا ہے کہ یہ افضلیت جو مردوں کو عورتوں پر حاصل ہے یہ جنس اور مجموعہ کے اعتبار سے ہے، جاں تک افراد کا تعلق ہے تو بہت ممکن ہے کہ کوئی عورت کمالات علمی و عملی میں کسی مرد سے بڑھ جائے اور صفت حاکمیت میں بھی مرد سے فائق ہو جائے۔

مرد اور عورت کے مختلف اعمال تقسیم کار کے اصول پر مبنی ہیں:-

 دسوری وجہ اختیاری جو بیہ بیان کی گئی ہے کہ مرد اپنے مال عورتوں پر خرچ کرتے ہیں، اس میں بھی چند اہم امور کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے، مثلاً ایک تو اس کا شبہ کا ازالہ ہے جو آیات میراث میں مردوں کا حصہ دوہرا اور عورتوں کا اکہرا ہونے سے پیدا ہو سکتا ہے، کیونکہ اس آیت نے اس کی بھی ایک وجہ بتلا دی کہ مالی ذمہ داریاں تمام تر مردوں پر ہیں، عورتوں کا حال تو یہ ہے کہ شادی سے پہلے ان کے تمام مصارف کی ذمہ داری باپ پر ہے اور شادی کے بعد شوہر پر اس لئے اگر غور کیا جائے تو مرد کو دوہرا حصہ دینا اس کو کچھ زیادہ دینا نہیں ہے، وہ پھر لوٹ کر عورتوں ہی کو پہنچ جاتا ہے۔

دوسرا اشارہ ایک اہم اصول زندگی کے متعلق یہ بھی ہے کہ عورت اپنی خلقت اور فطرت کے اعتبار سے نہ اس کی متحمل ہے کہ اپنے مصارف خود کما کر پیدا کرے، نہ اس کے حالات اس کے لئے سازگار ہیں کہ وہ محنت ، مزدوری اور دوسرے ذرائع کسب میں مردوں کی طرح دفتروں اور بازاروں میں پھرا کرے ........ اس لئے حق تعالی نے اس کی پوری ذمہ دری مردوں پر اس کے بالمقابل نسل بڑھانے کا ذریعہ عورت کو بنایا گیا ہے، بچوں کی اور امور خانہ داری کی ذمہ داری بھی اسی پر ڈال دی گئی ہے، جبکہ مرد ان امور کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

اس لئے یہ نہیں سمجھا جا سکتا کہ عورت کو اپنے نفقات میں مرد کا محتاج کر کے اس کا رتبہ کم کر دیا گیا ہے، بلکہ تقسیم کار کے اصول پر ڈیوٹیاں تقسیم کر دی گئی ہیں، ہاں ڈیوٹیوں کے درمیان جو باہم تفاضل ہوا کرتا ہے وہ یہاں بھی ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ ان دونوں وجہوں کے ذریعہ یہ بتلا دیا گیا کہ مردوں کی حاکمیت سے نہ عورتوں کا کوئی درجہ کم ہوتا ہے اور نہ ان کی اس میں کوئی منفعت ہے، بلکہ اس کا فائدہ بھی عورتوں ہی کی طرف عائد ہوتا ہے۔

صالح بیوی:- اس آیت کے شروع میں بطور ضابطہ یہ بتلا دیا گیا کہ مرد عورت پر حاکم ہے اس کے بعد نیک و بد عورتوں کا بیان اس طرح فرمایا: فالصلحت قنثت حفظت للغیب بما حفظ اللہ ”یعنی نیک عورتیں وہ ہیں جو مرد کی حاکمیت کو تسلیم کر کے ان کی اطاعت کرتی ہیں اور مردوں کے پیٹھ پیچھے بھی اپنے نفس اور ان کے مال کی حفاظت کرتی ہیں ۔“ یعنی اپنی عصمت اور گھر کے مال کی حفاظت جو امور خانہ داری میں سب سے اہم ہیں، ان کے بجا لانے میں ان کے لئے مردوں کے سامنے اور پیچھے کے حالات بالکل مساوی ہیں، یہ نہیں کہ ان کے سامنے تو اس کا اہتمام کریں، اور ان کی نظروں سے غائب ہوں تو اس میں لاپرواہی برتیں ۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر کے طور پر ارشاد فرمایا کہ:

”یعنی بہترین عورت وہ ہے کہ جب تم اس کو دیکھو تو خوش رہو اور جب اس کو کوئی حکم دو تو اطاعت کرے اور جب تم غائب ہو تو اپنے نفس اور مال کی حفاظت کرے۔

اور چونکہ عورتوں کی یہ ذمہ داریاں یعنی اپنی عصمت اور شوہر کے مال کی حفاظت دونوں آسان کام نہیں، اس لئے آگے فرما دیا بما حفظ اللہ، یعنی اس حفاظت میں اللہ تعالی عورت کی مدد فرماتے ہیں، انہی کی امداد اور توفیق سے وہ ان ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوتی ہیں، ورنہ نفس و شیطان کے مکائد ہر وقت ہر انسان مرد و عورت کے گھیرے ہوئے ہیں اور عورتیں خصوصاً اپنی علمی اور عملی قوتوں میں بہ نسبت مرد کمزور بھی ہیں، اس کے باوجود وہ ان ذمہ داریوں میں مردوں سے زیادہ مضبوط نظر آتی ہیں، یہ سب اللہ تعالی کی توفیق اور امداد ہے، یہی وجہ ہے کہ بے حیائی کے گناہوں میں بہ نسبت مردوں کی عورتیں بہت کم مبتلا ہوتی ہیں ۔

اطاعت شعار، تابعدار عورتوں کی فضیلت جہاں اس آیت سے مفہوم ہوتی ہے وہاں اس سلسلہ میں احادیث بھی وارد ہیں ۔

ایک حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ جو عورت اپنے شوہر کی تابعدار و مطیع ہو اس کے لئے استغفار کرتے ہیں پرندے ہوا میں، اور مچھلیاں دریا میں، اور فرشتے آسمانوں میں اور درندے جنگلوں میں ۔ (بحر محیط)......خلاصہ مضمون:- آیت سے بنیادی اصول کی حیثیت سے جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ اگرچہ پچھلی آیات کے ارشادات کے مطابق مردوں اور عورتوں کے حقوق باہم متماثل ہیں بلکہ عورتوں کے حقوق کی ادائیگی کا اس وجہ سے زیادہ اہتمام کیا گیا ہے کہ وہ بہ نسبت مرد کے ضعیف ہیں، اپنے حقوق اپنی قوت بازو کے ذریعہ مرد سے حاصل نہیں کر سکتیں، لیکن اس مساوات کے یہ معنی نہیں کہ عورت و مرد میں کوئی تفاضل یا درجہ کا کوئی فرق ہی نہ ہو، بلکہ بقتضائے حکمت و انصاف دو سبب سے مردوں کو عورتوں پر حاکم بنایا گیا ہے:

اول:تو جنس مرد کو اپنے علمی اور عملی کمالات کے اعتبار سے عورت کی جنس پر ایک خدا داد فضیلت اور فوقیت حاصل ہے، جس کا حصول جنس عورت کے لئے ممکن نہیں ........ افراد و احاد اور اتفاقی واقعات کا معاملہ الگ ہے۔

دوسرے یہ کہ عورتوں کی تمام ضروریات کا تکفل مرد اپنی کمائی اور اپنے مال سے کرتے ہیں ........ پہلا سبب وہی غیر اختیاری اور دوسرا کسبی اور اختیاری ہے اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایک ہی مال باپ کی اولاد میں سے بعض کو حاکم بعض کو محکوم بنانے کے لئے عقل و انصاف کی رو سے دو چیزیں ضروری تھیں، ایک جس کو حاکم بنایا جائے اس میں علم و عمل کے اعتبار سے حاکمیت کی صلاحیت، دوسرے اس کی حاکمیت پر محکوم کی رضامندی پہلا سبب مرد کی صلاحیت حاکمیت کو واضح کر رہا ہے اور دوسرا سبب محکوم کی رضا مندی کو، کیونکہ بوقت نکاح جب عورت اپنے مہر اور نان نفقہ کے تکفل کی شرط پر نکاح کی اجازت دیتی ہے تو اس کی اس حاکمیت کو تسلیم اور منظور کرتی ہے۔

الغرض اس آیت کے پہلے جملہ میں خانگی اور عائلی نظام کا ایک بنیادی اصول بتلایا گیا ہے کہ اکثر چیزوں میں مساوات حقوق کے باوجود مرد کو عورت پر ایک فضیلت حاکمیت کی حاصل ہے اور عورت محکوم و تابع ہے۔

اس بنیادی اصول کے ماتحت عملی دنیا میں عورتوں کے دو طبقے ہو گئے، ایک وہ جنہوں نے اس بنیادی اصول اور اپنے معاہدہ کی پابندی کی اور مرد کی حاکمیت کو تسلیم کر کے اس کی اطاعت کی ........ دوسرے وہ جو اس اصول پر پوری طرح قائم نہ رہا، پہلا طبقہ تو خانگی امن و اطمینان کا خود ہی کفیل ہے، اس کو کسی اصلاح کی حاجت نہیں ۔

دوسرے طبقہ کی اصلاح کے لئے آیت کے دوسرے جملہ میں ایک ایسا مرتب نظام بتلایا گیا کہ جس کے ذریعہ گھر کی اصلاح گھر کے اندر ہی ہو جائے اور میاں بیوی کا جھگڑا انہیں دونوں کے درمیان نمٹ جائے کسی تیسرے کی مداخلت کی ضرورت نہ ہو، اس میں مردوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ اگر عورتوں سے نافرمانی یا اطاعت میں کچھ کمی محسوس کرو تو سب سے پہلا کام یہ کرو کہ سمجھا بجھا کر ان کی ذہنی اصلاح کرو، اس سے کام چل گیا تو معاملہ یہیں ختم ہو گیا عورت ہمیشہ کے لئے گناہ سے اور مرد قلبی اذیت سے اور دونوں رنج و غم سے بچ گئے اور اگر فہمائش سے کام نہ چلا تو دوسرا درجہ یہ ہے کہ ان کو تنبیہ کرنے اور اپنی ناراضی کا اظہار کرنے کے لئے خود علیحدہ بستر پر سو یہ ایک معمولی سزا اور بہترین تنبیہ ہے، اس سے عورت متنبہ ہوگی تو جھگڑا یہیں ختم ہو گیا اور اگر وہ اس شریفانہ سزا پر بھی اپنی نافرمانی اور کج روی سے باز نہ آئی تو تیسرے درجہ میں معمولی مار مار نے کی بھی اجازت دے دیگئی جس کی حد یہ ہے کہ بدن پر اس مار کا اثر و زخم نہ ہو ........ مگر اس تیسرے درجہ کی سزا کے استعمال کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند نہیں فرمایا، بلکہ ارشاد فرمایا کہ شریف اور بھلے لوگ ایسا نہیں کریں گے۔

بہرحال اس معمولی مارپیٹ سے بھی اگر معاملہ درست ہو گیا تب بھی مقصد حاصل ہو گیا، اس میں مردوں کو عورتوں کی اصلاح کے لئے جہاں یہ تین اختیارات دیئے گئے وہیں آیت کے آخر میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ فان اطعنکم فلاتبغوا علیھن سبیلا یعنی اگر ان سہ نمبری تدبیروں سے وہ تمہاری بات ماننے لگیں تو اب تم بھی زیادہ بال کی کھال نہ نکالو“ اور الزام تراشی میں مت لگو، بلکہ کچھ چشم پوشی سے کام لو اور خوب سمجھ لو کہ اگر اللہ تعالی نے عورتوں پر تمہیں کچھ بڑائی دی ہے تو اللہ تعای کی بڑائی تمہارے اوپر بھی مسط ہے، تم زیادتی کرو گے تو اس کی سزا تم بھگتو گے۔

جھگڑا اگر طول پکڑ جائے تو دونوں طرف سے برادری کے حکم سے صلح کرائی جائے:- یہ نظام تو وہ تھا کہ جس کے ذریعہ گھر کا جھگڑا گھر ہی میں ختم ہو جائے، لیکن بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ جھگڑا طول پکڑ لیتا ہے، خواہ اس وجہ سے کہ عورت کی طبیعت میں تمرد و سرکشی ہو یا اس بناءپر کہ مرد کا قصور اور اس کی طرف سے بے جا تشدد ہو، بہرحال اس صورت میں گھر کی بات کا باہر نکلنا تو لازمی ہے ، لیکن عام عادت کے مطابق تو یہ ہوتا ہے کہ طرفین کے حامی ایک دوسرے کو برا کہتے ہیں اور الزام لگاتے پھرتے ہیں، جس کا نتیجہ جانبین سے اشتعال اور پھر دو شخصوں کی لڑائی خاندانی جھگڑے کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔''فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143710200030

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے