بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مرحوم کی جانب سے دم ادا کرنا


سوال

اگر کوئی لاعلمی کی وجہ سے بغیر احرام کے مکہ میں داخل ہوا ،پھر اپنے وطن واپس چلا گیا بغیر عمرہ کیے اور فوت ہوگیا ہو،تو اب اس کے لیے کیا حکم ہے؟  کیا اس کی اولا د میں سے کوئی وہ قضا عمرہ ان کی طرف سے ادا کرسکتا ہے یا نہیں؟

جواب

مذکورہ صورت میں مرحوم پر دم ادا کرنا لازم تھا،  لیکن وہ ادا نہیں کرسکا، اب دیکھا جائے گا کہ اگر  مرحوم نے دم ادا کرنے کی وصیت کی ہو اور ترکہ میں مال وجائیداد بھی چھوڑا ہو، تو  ترکہ کو تین حصوں میں تقسیم کرکے، ایک حصہ سے  دم  ادا کرناواجب ہے، ورنہ دم کی ادائیگی واجب نہیں ہوگی۔ البتہ اگر عاقل وبالغ ورثاء اپنی خوشی سے دم ادا کر دیں تو جائز ، بلکہ بہتر ہے، یہ ان کی طرف سے میت پر احسان ہوگا، اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید ہے کہ آخرت کے مواخذہ سے جان خلاصی ہوجائے گی۔

اولاد میں سے کوئی مرحوم کی جانب سے عمرہ ادا نہیں کرسکتا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201727

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے