بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

مرحوم والد کے ترکہ میں کون شریک ہیں؟


سوال

 مجھے معلوم کرنا تھا میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیا،  ان کا کاروبار ہے اور اس کاروبار کو تین بھائی چلا رہے ہیں، اور انہوں نے مجھے ایک جگہ دی ہے جو نہ لیز ہے اور نہ بنی ہوئی ہے، اور میں اس میں پانی کا کام کر رہا ہوں،  میں نے ان سے بولا آپ لوگ مجھے یہ جگہ بنا کر دے دیں  اور لیز کروادیں۔  کیا یہ میرا حق ہے؟  اگر میں حصے میں سے مانگتا ہوں مجھے حصہ پہ کیسے ملے گا ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کے والد مرحوم نے جو کچھ بھی ترکہ چھوڑا ہے، خواہ منقولہ ہو یا غیر منقولہ، کاروبار کی شکل میں ہو یا غیر کاروبار کی صورت میں ہو، بہر صورت اس تمام ترکہ میں مرحوم کے تمام شرعی ورثاء اپنے اپنے حصصِ شرعیہ کے بقدر شریک ہیں، اور تمام ورثاء پر شرعی تقسیم کے مطابق ترکہ کی تقسیم  لازم ہے، پس اگر تقسیم معلوم کرنا مطلوب ہو تو تمام ورثاء کی مکمل تفصیل لکھ کو سوال دوبارہ ارسال کردیا جائے۔

سائل کے بھائی اور سائل آپس کی رضامندی سے تقسیم کرسکتے ہیں۔تقسیم میں یہ بھی ممکن ہے کہ سائل کو اس کے حصے کے بدلے میں مذکورہ جگہ لیزکرواکر اور بنواکردے دی جائے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200509

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے