بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1441ھ- 05 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

مرحوم والد کی نابالغ بیٹے کے نام سے خریدی گئی زمین ترکہ میں داخل ہوگی یا نہیں؟


سوال

 میرے والد صاحب گورئمنٹ ملازم تھے، وہ کالج میں پڑھاتے تھے، انہوں نے اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کر زمین خریدی اور پرائیویٹ بزنس کیا۔ فوت ہونے سے پہلے سب معاملات خود دیکھتے تھے اور اپنے حصہ کی آمدن بھی خود وصول کرتے تھے۔ ان کی وفات کے بعد پتا چلا زمین میرے نام تھی، میں سب سے چھوٹا ہوں، ہم چار بھائی  ہیں، شرعی کیا حکم ہے؟ بھائیوں کو زمین سے بھی حصہ تقسیم کروں یا صرف کاروبار سے حصہ دوں؛ تاکہ معاملات خوش اسلوبی سے حل ہو سکیں؟ جب زمین والد صاحب نے خرید کر نام لکھوائی تب میں نابالغ تھا، مجھے شریعت کے مطابق فتویٰ دیں!

جواب

واضح رہے کہ والد اگر کسی وجہ سے اپنے کسی بیٹے کے نام سے مکان خریدے تو وہ بیٹا محض اس کے نام پر مکان خریدے جانے کی وجہ سے شرعی طور پر اس مکان کا مالک شمار نہ ہوگا، کیوں کہ صرف بیٹے کے نام سے مکان خریدنا  شرعاً  ہبہ  کے  نفاذ کے لیے کافی نہیں ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر اس بات پر گواہ موجود ہوں کہ آپ کے مرحوم والد نے مذکورہ زمین آپ کو باقاعدہ  ہبہ  کی تھی تو اس صورت میں تو مذکورہ زمین آپ کی ملکیت ہوگی اور آپ پر اس زمین میں سے مرحوم کے دیگر وارثین کو حصہ دینا لازم نہیں ہوگا، لیکن اگر والد مرحوم کا مذکورہ زمین آپ کو باقاعدہ  ہبہ  کرنے پر کوئی گواہ موجود نہ ہو   (جیسا کہ آپ کے سوال سے اندازا ہورہاہے کہ آپ کے والد صاحب نے وہ زمین آپ کو ہبہ (گفٹ) نہیں کی تھی،  کیوں کہ وہ اپنے حصے کی آمدن حاصل کرتے رہے وغیرہ) تو پھر مذکورہ زمین آپ کی ملکیت نہیں، بلکہ مرحوم کا ترکہ شمار ہوگی اور اس زمین میں مرحوم کے دیگر ترکہ کی طرح مرحوم کے تمام ورثاء کا میراث کے ضابطہ شرعی کے موافق حق و حصہ ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 689):

"بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة"۔

کفایت المفتی میں ہے:

’’ صرف لڑکوں کے نام سے جائے داد  خریدنا ثبوتِ ہبہ کے لیے  ناکافی ہے، اگرچہ نابالغ اولاد کو اگر باپ کوئی چیز  ہبہ کردے تو نابالغوں کا قبضہ کرنا ضروری نہیں ہوتا اور باپ کا قبضہ نابالغ موہوب لہ کے قبضہ کے قائم مقام ہوجاتا ہے، لیکن  ہبہ  کرنے کا ثبوت بہرحال ضروری ہے، پس اگر اس امر کے گواہ موجود ہوں کہ بکر نے وہ جائے داد  ان لوگوں کو  ہبہ  کردی تھی تو وہ ان لڑکوں کی خاص ملکیت ہوگی، ورنہ بکر کے ترکہ میں شامل ہوکر تمام وارثوں پر تقسیم ہوگی۔ (کتاب الھبۃ و العاریۃ ، ج:۸ ؍ ۱۶۶ ،دار الاشاعت ) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200541

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں