بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شعبان 1441ھ- 02 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

مرتہن کی اجازت سے گروی رکھی ہوئی چیز کا استعمال


سوال

اگر راہن، مرتہن  کی اجازت سے گروی رکھی ہوئی چیز کو استعمال کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

’’مرتہن‘‘ (جس کے پاس چیز گروی رکھی ہو)  کی اجازت سے ’’راہن‘‘ (گروی رکھوانے والے) کو گروی رکھی ہوئی چیز کے استعمال کی اجازت ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 482):
"(لا انتفاع به مطلقاً) لا باستخدام، ولا سكنى ولا لبس ولا إجارة ولا إعارة، سواء كان من مرتهن أو راهن (إلا بإذن) كل للآخر.

(قوله: من مرتهن أو راهن) الأول مصرح به في عامة المتون، والثاني صرح به في درر البحار وشرح مختصر الكرخي وشرح الزاهدي، وفيه خلاف الشافعي فعنده يجوز له الانتفاع بغير الوطء، والأول لا خلاف فيه كما في غرر الأفكار". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200364

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے