بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1441ھ- 06 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

مرتد کی سزا پر دلیل


سوال

اسلام میں مرتد کی سزا موت ہے، اس کا قرآن و حدیث سے کوئی  حوالہ بتا دیں.

جواب

اگر کوئی مسلمان العیاذباللہ دینِ اسلام سے نکل کر مرتد ہوجائے اور کفر میں داخل ہوجائے تو اگر مرتد شخص مرد ہو تو تین دن تک اسے مہلت دی جائے، اور اس دوران اس کے شکوک وشبہات دور کیے جائیں، اگر اس کے شکوک وشبہات دور ہوجائیں اور دوبارہ اسلام قبول کرلے تو  وہ دیگر مسلمانوں کی طرح ہوگا۔ اور  اگر شکوک وشبہات دور کرنے  کے باوجود نہ مانے اور واپس اسلام میں داخل نہ ہو تو شرعاًایسے مرتد مرد  کی سزا قتل ہے،جسے نافذ کرنے کااختیاراسلامی حکومت کو ہے۔  قرآن و سنت، اجماع امت اور فقہائے امت کا یہی فیصلہ ہے، اور عقل و دیانت کا بھی یہی تقاضا ہے۔

قرآنِ کریم میں ہے:

{انماجزاء الذین یحاربون اللّٰه ورسوله ویسعون في الارض فسادًا ان یقتلوا او یصلبوا او تقطع ایدیهم وارجلهم من خلاف او ینفوا من الارض ذلک لهم خزي في الدنیا ولهم في الآخرة عذاب عظیم الا الذین تابو من قبل ان تقدروا علیهم فاعلموا ان اللّٰه غفور رحیم}  [المائدة: ۳۳-۳۴]

ترجمہ: ”یہی سزا ہے ان کی جو لڑائی کرتے ہیں اللہ سے اوراس کے رسول سے اور دوڑتے ہیں ملک میں فساد کرنے کو،  کہ ان کو قتل کیا جائے یاسولی چڑھائے جائیں یا کاٹے جائیں ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے، یا دور کردیے جائیں اس جگہ سے، یہ ان کی رسوائی ہے دنیا میں اوران کے لیے آخرت میں بڑا عذاب ہے، مگر جنہوں نے توبہ کی تمہارے قابو پانے سے پہلے تو جان لو کہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔“

اس آیت کے ذیل میں تمام مفسرین و محدثین نے ’’عکل وعرینہ‘‘  کے ان لوگوں کا واقعہ لکھاہے جو اسلام لائے تھے، مگر مدینہ منورہ  کی آب و ہوا ان کو راس نہ آئی تو ان کی شکایت پر  آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو صدقہ کے اونٹوں کے ساتھ بھیج دیا، جہاں وہ ان کا دودھ وغیرہ پیتے رہے، جب وہ ٹھیک ہوگئے تو مرتد ہوگئے اوراونٹوں کے چرواہے کو قتل کرکے صدقہ کے اونٹ بھگالے گئے، جب مسلمانوں نے ان کو گرفتار کرلیا اور آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے گئے تو  آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سیدھے ہاتھ اوراُلٹے پاؤں کاٹ دیے، اور وہ حرہ (گرم پتھریلی زمین) میں ڈال دیے گئے، پانی مانگتے رہے، مگر ان کو پانی تک نہ دیا، یہاں تک کہ وہ تڑپ تڑپ کر مرگئے۔ راوی حدیث ابوقلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "«فهؤلاء سرقوا وقتلوا، وكفروا بعد إيمانهم، وحاربوا الله ورسوله»".یعنی ان لوگوں نے چوری بھی کی، قتل بھی کیا اور ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کیا اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے مقابلہ کیا، اس جرم کی پاداش میں انہیں یہ سزا دی گئی۔

صحیح بخاری میں ہے:

"عن أنس بن مالك، قال: قدم أناس من عكل أو عرينة، فاجتووا المدينة، «فأمرهم النبي صلى الله عليه وسلم، بلقاح، وأن يشربوا من أبوالها وألبانها»، فانطلقوا، فلما صحوا، قتلوا راعي النبي صلى الله عليه وسلم، واستاقوا النعم، فجاء الخبر في أول النهار، فبعث في آثارهم، فلما ارتفع النهار جيء بهم، «فأمر فقطع أيديهم وأرجلهم، وسمرت أعينهم، وألقوا في الحرة، يستسقون فلايسقون». قال أبو قلابة: «فهؤلاء سرقوا وقتلوا، وكفروا بعد إيمانهم، وحاربوا الله ورسوله»". (صحيح البخاري. 1 / 56، رقم الحدیث : 233، 1501، 4192)

حدیث شریف میں ہے:

"عن عکرمة قال: قال ابن عباس: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم: من بدّل دینه فاقتلوه". (النسائي، ص:۱۴۹، ج:۲، سنن ابن ماجه، ص: ۱۸۲)

ترجمہ: ”حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دین تبدیل کرکے مرتد ہوجائے، اس کو قتل کردو۔“

اور اگر ارتداد اختیار کرنے والی عورت ہے تو اولاً اس کے بھی شکوک وشبہات دور کیے جائیں، اگر اسلام کی طرف لوٹ آئے تو بہتر، بصورتِ دیگر  اسے تاحیات قید میں رکھاجائے، الا یہ کہ جب وہ توبہ کرلے تو اسے رہا کردیا جائے۔ (تفصیلی دلائل  کے لیے دیکھیے:جواہرالفقہ ،جلد ششم ، رسالہ :مرتد کی سزا اسلام میں )فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200613

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں