بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 جُمادى الأولى 1441ھ- 26 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

مذی نکلنے کا عذر ہو تو نماز کا حکم


سوال

جس شخص کو مذی نکلنے کی بیماری ہو، بیٹھنے سے نکل جائے یا عموماً مذی نکل جائے تو کیااس کے ساتھ نماز پڑھ سکتے ہیں؟ مذی نکلنے سے بار بار نہانا پڑے گا یا صرف وضو کرنا ہوگا؟

جواب

اگر کسی شخص کو مذی نکلنے کا عذر لاحق ہواور مسلسل مذی نکلتی ہو اس طور پر کہ ایک نماز کا مکمل وقت اس طرح گزر جائے کہ پاک کپڑے پہن کر وضو سے فراغت کے بعدمذی  نکلے بغیر فرض نماز پڑھنےکابھی موقع نہ ملے تو اس صورت میں یہ شخص شرعی معذورکہلائے گا،اورمعذوری اس وقت تک شمار ہوگی جب تک ایک نماز کےمکمل وقت میں ایک دفعہ بھی یہ عذر  پایا جائے۔ ایسی صورت میں  یہ آدمی ایک نماز کے وقت میں ایک دفعہ وضو کرکے کپڑے پاک کرکے اس وضو سے اس نماز کے وقت کے ختم ہونے تک جس قدر فرائض ونوافل چاہیں ادا کرسکتا ہے، اور وقت کے ختم ہوتے ہی  وضوٹوٹ جائے گا، دوسری نماز کے لیے دوبارہ وضو کرنا پڑے گا اور کپڑوں میں جہاں مذی لگی ہوگی اس جگہ کو پاک کرنا پڑے گا۔

اوراگر مذی اس قدر مسلسل نہیں نکلتی، بلکہ وقتاً فوقتاًمذی کا خروج ہوتاہے اور یہ شخص ایک فرض نماز مکمل پاکی کی حالت میں پڑھ سکتا ہےتویہ   شرعی معذور نہیں کہلائے گا، اس صورت میں جب کبھی بھی مذی خارج ہوگی تو وضو ٹوٹ جائے گا اوروضو دوبارہ کرنا پڑے گا،اورمذی اگر ایک درہم (ہاتھ کی ہتھیلی کے گڑھے:5.94 مربع سینٹی میٹر)سے کم مقدارمیں کپڑے پرلگی ہوتو(اگرچہ اس مقدارمیں بھی نجاست کودھولیناچاہیے تاہم )وہ معاف ہے،یعنی نمازکراہت کے ساتھ ہوجائے گی۔اگر اس سے زیادہ ہوتو بہرصورت  کپڑے کو پاک کرنا ہوگا۔  نیز اگر نماز کی حالت میں  مذی نکل جائے تو نماز فاسد ہوجائے گی، مذکورہ تفصیل کے مطابق کپڑے پاک کرکے دوبارہ وضو کرکے نماز پڑھنی ہوگی۔

مذی نکلنے سے وضو لازم ہوتاہے غسل نہیں ،جیساکہ اوپر تفصیل لکھی جاچکی ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وصاحب عذر من به سلس) بول لايمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة، (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لايجد في جميع وقتها زمناً يتوضأ ويصلي فيه خالياً عن الحدث (ولو حكماً)؛ لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرةً (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة)؛ لأنه الانقطاع الكامل.(وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في  ﴿لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ﴾ [الإسراء: 78] (ثم يصلي) به (فيه فرضاً ونفلاً) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل)". (1/ 305،  کتاب الطہارۃ، مطلب فی احکام المعذور، ط: سعید) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200167

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے