بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 ذو القعدة 1441ھ- 14 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر روزانہ اور بار بار حاضری دینے نیز الوداعی سلام پیش کرنے کا حکم


سوال

جو لوگ مدینہ منورہ میں ہوں اور ایک بار سلام پیش کرچکے ہوں ان کے لیے روضہ رسول پر حاضری اور سلام پیش کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا ہر نماز کے بعد یا ہر روز سلام پیش کرنا چاہیے یا ایک بار کافی ہے؟ اس مسئلے کا جواب عنایت فرمائیں!

بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ جانے والے مسلمانوں کو  چاہیے کہ وہ پہلی بار ادب واحترام کے ساتھ روضہ رسول پر حاضر ہو کر سلام پیش کریں  کہ آپ علیہ السلام اپنی قبر مبارک میں حیات ہیں اور سلام پیش کرنے والوں کا جواب خود دیتے ہیں. لیکن بار بار جانا اور ہر نماز کے بعد اس کی عادت بنانا امت کے سابقین سے ثابت نہیں اور نہ ہی اس کی ترغیب دی گئی ہے، لہذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔  اسی طرح مدینے سے روانگی سے پہلے الوداعی سلام کا جو رواج پڑ گیا ہے،  شریعت میں اس کی بھی کوئی اصل نہیں، لہذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

آپ حضرات کا اس بارے میں کیا موقف ہے؟

جواب

مدینہ منورہ حاضری کے موقع پر روضہ رسول ﷺ پر حاضر ہونا اور سلام پیش کرنا ہر امتی پر رسول اللہ ﷺ کا حق ہے اور امتی کے لیے یہ بڑی سعادت کی بات ہے،  باقی فقہاءِ  امت نے مدینہ منورہ حاضری کے وقت روضہ رسول ﷺ پر حاضری اور سلام پیش کرنے کی کوئی تحدید ذکر نہیں کی ہے کہ ایک دن میں یا ایک سفر میں زیادہ سے زیادہ کتنی مرتبہ روضہ رسول ﷺ پر حاضری دی جاسکتی ہے۔

  روضہ رسول ﷺ پر سلام پیش کرنے کے لیے حاضر ہونے کا تعلق بابِ عشق سے ہے، لہٰذا ہر امتی کا اپنے نبی ﷺ  سے تعلق اور محبت  کی  بات ہے جس کا جتنی مرتبہ دل چاہے اپنے محبوب کے در پر حاضر ہوکر سلام پیش کرے، اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے، خاص کر آج کل حج اور عمرہ پر جانا  ویسے ہی  جتنا مشکل ہوچکا ہے تو آدمی سوچتا ہے کہ پتا  نہیں آئندہ کب مدینہ منورہ حاضری کی توفیق ہوسکے، اس لیے مدینہ منورہ میں قیام کے دوران آدمی جتنی مرتبہ بھی اپنے محبوب نبیﷺ کے در پر حاضری دینا چاہے، اس کو منع نہیں کرنا چاہیے,  البتہ اتنا خیال رکھنا  چاہیے کہ روضہ رسول ﷺ پر کثرت سے حاضری کی وجہ سے اس دربار میں حاضری کے جو آداب ہیں اس کی رعایت میں کمی نہیں آنی  چاہیے،  بلکہ جتنی  بار  بھی حاضری ہو ہر بار آداب کی ایسی ہی رعایت کرنی  چاہیے جیسی پہلی بار حاضری کے وقت کی جاتی ہے۔

مدینہ منورہ سے واپسی کے وقت  روضہ رسول ﷺ پر حاضر ہوکر الوداعی سلام پیش کرنا  طواف وداع کی طرح  باقاعدہ   واجب یا سنت تو نہیں ہے،  لیکن اگر کوئی شخص رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے شہر سے جدائی کے وقت نبی کریم ﷺ کی محبت میں (لازم سمجھے بغیر)  الوداع کی نیت سے سلام پیش کر کے مدینہ منورہ سے واپسی کرے تو شرعاً  اس میں کوئی حرج نہیں،  بلکہ یہ ایک اچھا اور مستحسن عمل کہلائے گا،  لہٰذا اس عمل سے اجتناب کرنے کی تاکید کرنا درست نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010201113

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں