بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مدرسہ کے منتظم کا فیس لینا


سوال

ایک  صاحب  جنہوں نے درسِ نظامی کا مدرسہ شروع کیا ہے،  وہ ماہانہ تین سو روپے فیس لیتے ہیں  جو کہ کل ملا کر چھ سات ہزار روپے بن جاتے ہیں، یہ سارے پیسے وہ خود لیتے ہیں جب کہ مدرسے کے باقی اخراجات اور  جو معلمین انہوں نے رکھے ہیں ان کی تنخواہ چندے سے ادا کرتے ہیں،  سوال یہ ہے کہ فیس کے سارے پیسے رکھنا ان کے لیے جائزہے؟

جواب

تعلیمی فیس لینا درست ہے،  البتہ اگروہ مفت تعلیم کاکہہ لوگوں سے چندہ وصول کرتےہوں تو پھر ان کی غلط بیانی ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144102200086

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے